انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 482

انوار العلوم جلد 24 482 تعلیم الاسلام کا لج ربوہ کے افتتاح کے موقع پر خطار پس اگر تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ میں مسلمان نہیں۔تب بھی ہم تمہیں برداشت کر لیں گے لیکن اس شرط پر کہ تمہیں اس کالج میں داخل ہونے کے بعد اپنے آپ کو کسی مارل کوڈ کی طرف منسوب کرنا ہو گا۔چاہے تم اسے تجربہ کے طور پر تسلیم کرو مثلاً تم تجربہ کے طور پر اپنے ماں باپ کے مذہب کو اختیار کر لو تب بھی ہم برداشت کر لیں گے لیکن اگر تم کسی مارل کوڈ کے ماتحت مستقل طور پر نہیں چلتے اور نہ کسی مارل کوڈ کو تجربہ کے طور پر اختیار کرتے ہو تو دیانتداری یہی ہے کہ تم اس کالج میں داخلہ نہ لو۔اسلام کہتا ہے کہ تم جس مذہب کی تعلیم پر بھی عمل کرنا چاہو عمل کرو۔ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں۔اگر کوئی ہندو اپنی تعلیم پر عمل کرتا ہے ، عیسائی اپنی تعلیم پر عمل کرتا ہے، یہودی اپنی تعلیم پر عمل کرتا ہے تو وہ اس کالج میں داخلہ لینے کا مستحق ہے۔اگر کوئی حنفی المذہب ہے اور وہ حنفی مذہب پر عمل کرتا ہے تو وہ اس کالج میں داخلہ لینے کا مستحق ہے۔اگر کوئی شیعہ ہے اور اپنے مذہب پر عمل کرتا ہے تو اس کالج میں داخلہ لینے کا مستحق ہے۔کیونکہ یہ کالج تعلیم الاحمدیہ کالج نہیں تعلیم الاسلام کالج ہے اور اسلام ایک وسیع لفظ ہے کوئی کوڈ آف ماریٹی (CODE OF MORALITY) جس کو علمائے اسلام نے کسی وقت تسلیم کیا ہو یا اب اسے تسلیم کر لیں وہ اسلام میں شامل ہے۔پس میں طلباء کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ تم کالج کی روایات کو قائم رکھو۔یہ تعلیم الاسلام کالج ہے اور اس کے معنے یہ ہیں کہ کالج تمہیں عملی مسلمان بنادے گا اور یہی اس کالج کے قائم کرنے کی غرض ہے۔پھر ہر کالج کی کچھ نہ کچھ روایات ہوتی ہیں۔مثلاً آکسفورڈ یونیورسٹی ہے اس نے آکسفورڈ میں تعلیم پانے والے تمام طلباء کے لئے ایک خاص قسم کا نشان مقرر کیا ہوا ہے۔اب جو شخص اس نشان کو دیکھے گاوہ فوراً سمجھ جائے گا کہ اس نے آکسفورڈ میں تعلیم پائی ہے۔ہمارے ملک میں علیگڑھ کالج نے اس قسم کی روایات قائم کی تھیں۔وہاں سے فارغ ہو نیوالے طلباء اپنے نام کے آگے ”علیگ “لکھ لیتے تھے اور جو شخص یہ لفظ پڑھتا اگر وہ بھی علیگڑھ میں ہی پڑھا ہوا ہوتا تو اس سے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کرتا۔اس قسم کی روایات اس کالج کے ساتھ بھی وابستہ