انوارالعلوم (جلد 24) — Page 458
انوار العلوم جلد 24 458 خدام الاحمدیہ کے قیام کا مقصد۔میں نے دیکھا ہے صدر انجمن احمدیہ کی شاخیں ہمیشہ چھ اور سات سو کے در میان چکر کھاتی رہتی ہیں اور اس تعداد میں کبھی اضافہ نہیں ہوا۔اس کی وجہ در حقیقت یہی تھی کہ کوئی ایسا محکمہ نہیں تھا جو اس امر کی نگرانی کرتا اور دیکھتا کہ انجمنیں کیوں ترقی نہیں کر رہیں۔پس ہر سال ایک چارٹ تیار کیا جایا کرے اور پھر اس چارٹ پر شوری میں بحث ہو کہ فلاں جگہ کیوں کمی آگئی ہے۔یا فلاں جگہ جو زیادتی ہوئی ہے وہ کافی نہیں اس سے زیادہ تعداد ہونی چاہئے تھی۔یا اگر پچھلے سال خدام الاحمدیہ کے ایک ہزار ممبر تھے تو اس سال بارہ سو کیوں نہیں ہوئے؟ اِس وقت دنیا کی آبادی بڑھ رہی ہے اور احمدی بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑھ رہے ہیں۔باہر سے آنے والوں کے ذریعہ سے بھی اور نسل کی ترقی کے ذریعہ سے بھی۔پس خدام الاحمدیہ کی تعداد ہر سال پچھلے سال سے زیادہ ہونی چاہئے۔اگر یہ چارٹ سالانہ اجتماع پر لگا ہوا ہو تو باہر سے آنے والے خدام کو بھی اس طرف توجہ ہو سکتی ہے۔اس کے بعد جب بیرونی مجالس میں توجہ پیدا ہو تو اس قسم کا چارٹ چھپوا دیا جائے۔اس چارٹ میں مختلف خانے بنے ہوئے ہوں جن میں مجالس کی ابتداء سے لے کر موجودہ وقت تک کے تمام سالوں کی درجہ بدرجہ ترقی یا تنزل کا ذکر ہو۔اگر تم اس طرح کرو تو یقینا تم کسی جگہ ٹھہرو گے نہیں لیکن اس خانہ پری میں تمہاری وہ کیفیت نہیں ہونی چاہئے جو جلسہ سالانہ کے منتظمین کی ہوتی ہے کہ پہلے ان کی پر چی خوراک سے ظاہر ہوتا ہے کہ سولہ سترہ ہزار افراد آئے ہیں اور پھر جب لوگوں میگوئیاں شروع ہوتی ہیں کہ لوگ کم کیوں آئے ہیں تو یکدم ان کی تعداد 35 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ صحیح نگرانی نہیں ہو سکتی اور خرچ بے کار ہو جاتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جلسہ سالانہ پر خدا تعالیٰ کے فضل سے کافی لوگ آتے ہیں۔مگر جب بھی چہ میگوئیاں شروع ہوں کہ زیادہ لوگ نہیں آئے تو یکدم تعداد میں تغیر آجاتا ہے۔اسی طرح باہر سے ایک دوست کی چٹھی آئی کہ ہم جلسہ کے دنوں میں فلاں جگہ ٹھہرا کرتے ہیں۔ہم نے دیکھا کہ وہاں دس دس بارہ بارہ آدمیوں کے لئے چاول اور