انوارالعلوم (جلد 24) — Page 457
انوار العلوم جلد 24 457 خدام الاحمدیہ کے قیام کا مقصد۔۔اور سمجھتا ہے کہ میرے کام اعلیٰ ہیں۔اگر میں اس راستہ سے ہٹ جاؤں گا تو ذلیل ہو جاؤں گا۔گزشتہ زمانہ میں مسلمان کمزور ہوئے تو اسی وجہ سے کہ اسلام کے باغ میں جو ثمرات اور پھل لگے ان پھلوں کی انہوں نے حفاظت نہ کی اور وہ گرنے شروع ہو گئے۔انہوں نے اسلام میں حاصل ہونے والی عزت پر دنیوی عزتوں کو ترجیح دینی شروع کر دی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کی شوکت آہستہ آہستہ مٹ گئی۔اگر وہ سمجھتے یورپین سوسائٹی میں شامل ہونا یا ان سوسائٹیوں میں کسی عزت کے مقام کامل جانا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے مقابلہ میں بالکل حقیر اور ذلیل چیز ہے تو وہ ادھر کبھی نہ جاتے۔پس خدام الاحمدیہ کو اس لئے قائم کیا گیا ہے کہ وہ اسلام کے مقصد کو اپنے سامنے رکھیں تا یورپ کے اثرات اور روس کے اثرات اور دوسرے ہزاروں اثرات ان کی نگاہ میں حقیر نظر آنے لگیں اور وہ سمجھیں کہ حقیقی عزت اُس کام میں ہے جو خدا نے اُن کے سپر د کیا ہے۔اس کے بعد انصار اللہ مقرر ہیں تا کہ جو خدام میں سے نکل کر ان میں شامل ہو وہ اس کی حفاظت کریں۔گویا تمہاری مثال ایسی ہے۔جیسے کوئی مور کی حفاظت کرتا ہے اور انصار اللہ کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی بڑے پھل کی نگہداشت کرتا ہے۔جہاں تک خدام الاحمدیہ کا سوال ہے وہ بہت چھوٹی بنیاد سے اُٹھے اور بڑھ گئے۔مگر مجھے افسوس ہے کہ انصار اللہ نے اپنی تنظیم نہیں کی۔حالانکہ ان کی ترقی کے امکانات زیادہ اور ان کے خطرات کم تھے۔لالچیں اور حرمیں زیادہ تر نوجوانی میں پیدا ہوتی ہیں۔بڑھاپے میں انسانی کیریکٹر راسخ ہو جاتا ہے اور اس کا قدم آسانی سے ڈگمگا نہیں سکتا۔بہر حال خدام نے خوش کن ترقی کی ہے مگر اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ خدام الاحمدیہ کا دفتر اپنے پاس ایک چارٹ رکھے جس میں یہ دکھایا جائے کہ مجلس کی اس وقت تک کتنی انجمنیں ہیں، کس کس جگہ اس کی شاخیں قائم ہیں اور دوران سال میں ان انجمنوں نے کتنی ترقی کی ہے۔اگر اس قسم کا ایک چارٹ موجود ہو تو اس کے دیکھتے ہی فوراً پتہ لگ سکتا ہے کہ خدام الاحمدیہ ترقی کر رہے ہیں یا گر رہے ہیں۔