انوارالعلوم (جلد 24) — Page 14
انوار العلوم جلد 24 14 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی ان واقعات سے ظاہر ہے کہ مدعیان نبوت کا مقابلہ اس وجہ سے نہیں کیا گیا تھا کہ وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں سے نبی ہونے کے دعویدار تھے اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی اشاعت کے مدعی تھے بلکہ صحابہ نے ان سے اس لئے جنگ کی تھی کہ وہ شریعت اسلامیہ کو منسوخ کر کے اپنے قانون جاری کرتے تھے اور اپنے اپنے علاقہ کی حکومت کے دعویدار تھے اور صرف علاقہ کی حکومت کے دعویدار ہی نہیں تھے بلکہ اُنہوں نے صحابہ کو قتل کیا۔اسلامی ملکوں پر چڑھائیاں کیں، قائم شدہ حکومت کے خلاف بغاوت کی اور اپنی آزادی کا اعلان کیا۔ان واقعات کے ہوتے ہوئے مولانا مودودی صاحب کا یہ کہنا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام صحابہ نے مدعیانِ نبوت کا مقابلہ کیا۔یہ جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے ؟ اگر کوئی شخص یہ کہہ دے کہ صحابہ کرام انسانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے تھے تو کیا یہ محض اس وجہ سے ٹھیک ہو جائے گا کہ مسیلمہ کذاب بھی انسان تھا اور اسود عنسی بھی انسان تھا۔ہم مولانا مودودی اور جماعتِ اسلامی سے بادب درخواست کرتے ہیں کہ اگر ان کے مد نظر اسلام کی خدمت ہے تو وہ سچ کو سب سے بڑا مقام دیں اور غلط بیانی اور واقعات کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے سے کلی طور پر احتراز کیا کریں۔اللہ تعالیٰ ان کو اس بات کی توفیق دے تاکہ وہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچے متبعین میں شامل ہونے کا موقع پاسکیں۔اکابرین امت کی شہادت کہ باقی رہا یہ کہ احمدیوں نے خاتم النیسین میں "خاتم“ کے معنی مہر کے ہیں "خاتم“ کے معنی مہر کے کر دیئے ہیں حالا نکہ پہلے لوگ یہ معنے کرتے تھے۔یہ ایک اتنی بڑی جہالت کا فقرہ ہے کہ مولانا مودودی جیسے آدمی سے اس کی امید نہیں تھی۔علامہ الوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں کہ لفظ ” خاتم “ (جو خاتم النبین میں استعمال ہوا ہے) اس چیز کو کہتے ہیں جس سے مُہر لگائی جاتی ہے۔پس خاتم النبیین کے معنے ہیں جس سے نبیوں پر مہر لگائی گئی اور اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ آخری نبی تھے۔17 علامہ الوسی کی تفسیر مسلمانوں کی مشہور ترین تفسیروں میں سے ہے اور وہ