انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 13

انوار العلوم جلد 24 13 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی زکوۃ ادا کرنے کے لئے ہم تیار نہیں لیکن حضرت ابو بکر نے ان کی اس بات کو رد کر دیا۔10 اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ صحابہ نے جن لوگوں سے لڑائی کی تھی وہ حکومت کے باغی تھے۔انہوں نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا تھا اور انہوں نے مدینہ پر حملہ کر دیا تھا۔مسیلمہ نے تو خو درسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں آپ کو لکھا تھا کہ :- ” مجھے حکم دیا گیا ہے کہ آدھا ملک عرب کا ہمارے لئے ہے 11 اور آدھا ملک قریش کے لئے ہے“۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس نے حجر اور یمامہ میں سے ان کے مقرر کردہ والی تمامہ بن اثال کو نکال دیا اور خود اس علاقہ کا والی بن گیا۔12 اور اس نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔اسی طرح مدینہ کے دو صحابہ حبیب بن زید اور عبد اللہ بن وہب کو اس نے قید کر لیا اور ان سے زور کے ساتھ اپنی نبوت منوانی چاہی۔عبد اللہ بن وہب نے تو ڈر کر اس کی بات مان لی مگر حبیب بن زید نے اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔اس پر مسیلمہ نے اس کا عضو عضو کاٹ کر آگ میں جلا دیا۔13 اسی طرح یمن میں بھی جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے افسر مقرر تھے ان میں سے بعض کو قید کر لیا اور بعض کو سخت سزائیں دی گئیں۔اسی طرح طبری نے لکھا ہے کہ اسود عنسی نے بھی علم بغاوت بلند کیا تھا اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے جو حکام مقرر تھے ان کو اس نے تنگ کیا تھا اور ان سے زکوۃ چھین لینے کا حکم دیا تھا۔14 پھر اس نے صنعاء میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ حاکم شہر بن باذان پر حملہ کر دیا۔بہت سے مسلمانوں کو قتل کیا، لوٹ مار کی ، گورنر کو قتل کر دیا اور اس کو قتل کر دینے کے بعد اس کی مسلمان بیوی سے جبر انکاح کر لیا۔15 بنو نجران نے بھی بغاوت کی اور وہ بھی اسود عنسی کے ساتھ مل گئے اور اُنہوں نے دو صحابہ عمر و بن حزم اور خالد بن سعید کو علاقہ سے نکال دیا۔16