انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 407

انوار العلوم جلد 24 407 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب کہتی ہے کہ اس فساد کے موجبات سیاسی تھے۔یہ اختلاف دیانتداری کے ساتھ نہیں ہو سکتا۔اگر تو جماعت اسلامی پہلے ہوتی اور مولانا مودودی بعد میں آکر اس کے پریذیڈنٹ بن جاتے تب تو نفسیاتی طور پر اس اختلاف کو حل کیا جاسکتا تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودی ہی نے جماعت اسلامی بنائی ہے اور اب بھی گو انہیں ایکس امیر (Ex-AMEER) کہا جاتا ہے لیکن جیل خانہ میں بھی انہی سے مشورے کئے جاتے ہیں کیونکہ ان کو "مزاج شناس رسول " کا درجہ دیا جاتا ہے (بیان امین احسن اصلاحی) اگر اتنا اہم اختلاف پیدا ہو گیا تھا تو یہ تعاون با ہمی کیسے جاری ہے۔جماعت اخوان المسلمین نے بھی مصر میں یہی طریقہ اختیار کیا ہوا ہے۔جنرل نجیب کے بر سر اقتدار آنے پر انہوں نے اعلان کر دیا کہ ان کی جماعت مذہبی جماعت ہے لیکن ایک حصہ اسے سیاسی قرار دیتا رہا اور اب ساری جماعت ہی سیاسیات میں اُلجھ کر مصر کی قائم شدہ حکومت جس کے ذریعہ سے اس کے لئے آزادی کا حصول ممکن ہو گیا ہے اس کے خلاف کھڑی ہو گئی اور جماعت اسلامی کے صدر صاحب جنرل نجیب کو تار دیتے ہیں کہ جو الزام تم اخوان المسلمین پر لگاتے ہو وہ غلط ہے۔عجیب بات ہے کہ مصر کی حکومت مصر کے بعض لوگوں پر ایک الزام لگاتی ہے اور واقعات کی بناء پر الزام لگاتی ہے لیکن پاکستان کی جماعت اسلامی بغیر اس کے کہ ان لوگوں سے واقف ہو ، بغیر اس کے کہ کام سے واقف ہو ، صدرِ مصر کو تار دیتی ہے کہ تمہاری غلطی ہے یہ لوگ ایسے نہیں ہیں۔یہ صاف بتاتا ہے کہ دونوں تحریکیں سیاسی ہیں اور دونوں ایک دوسرے کا بازو ہیں۔مذہب کا صرف نام رکھا گیا ہے اور اسی وجہ سے جب اس تحریک فسادات نے زور پکڑا اور جماعت اسلامی نے یہ محسوس کیا کہ اس ذریعہ سے وہ حکومت کے کچھ لوگوں کی نظر میں بھی پسندیدہ ہو جائیں گے اور عوام الناس میں بھی ان کو قبولیت حاصل کرنے کا موقع میسر آجائے گا تو وہ اس تحریک میں شامل ہو گئے۔ہمیں تعجب ہے کہ مسٹر انور علی صاحب آئی جی پولیس، مولوی عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری کے متعلق تو یہ کہتے ہیں کہ لائلپور کی تقریر میں ان کا یہ کہنا کہ اس اس رنگ میں