انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 408 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 408

انوار العلوم جلد 24 408 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب فساد ظاہر ہوں گے یہ بتاتا ہے کہ وہ ان فسادات کی سکیم میں شامل تھے۔لیکن مولانا مودودی صاحب کی لاہور کی تقریر جس میں وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر حکومت نے یہ باتیں نہ مانیں تو جس رنگ میں پارٹیشن کے وقت فسادات ہوئے تھے اُسی رنگ میں فسادات ہوں گے اس کے متعلق وہ یہ کہتے ہیں کہ ان کے متعلق مجھے یہ شبہ نہیں تھا کہ وہ کوئی سیاسی کام گورنمنٹ کے خلاف کرتے ہیں۔تعجب ہے ایک ہی قسم کی تقریریں دو شخص کرتے ہیں اور ایک سے اور نتیجہ نکالا جاتا ہے اور دوسری سے اور۔حالانکہ مولانا مودودی نے جس قسم کے فسادات کی طرف اشارہ کیا تھا فسادات تفصیلاً اُسی رنگ میں پیش آئے۔یا تو وہ الہام کے مدعی ہوتے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے ایسا بتایا ہے تب ہم اس امر کی تحقیقات کرتے مگر وہ تو الہام کے منکر ہیں۔آخر انہیں کیونکر پتہ لگا تھا کہ اُسی رنگ میں فسادات ہوں گے جس رنگ میں پارٹیشن کے زمانہ میں فسادات ہوئے تھے۔فسادات کے مختلف پیٹرن(Pattern) ہوتے ہیں اور ہر وقت اور ہر ملک میں ایک قسم کے فسادات ظاہر نہیں ہوتے۔گزشتہ پارٹیشن کے زمانہ میں فساد کا ایک معین طریق تھا جو ہندوؤں اور سکھوں نے مقرر کیا تھا۔مغربی پنجاب میں بھی فسادات ہوئے مگر وہ اس رنگ میں نہیں ہوئے ان کا رنگ بالکل اور تھا مگر جو فسادات پچھلے دنوں میں ہوئے ان کا پیٹرن وہی تھا جو کہ مشرقی پنجاب میں استعمال کیا گیا تھا اور اس کی طرف مولانا مودودی صاحب نے اشارہ کیا تھا۔غرض یہ ایک حقیقت ہے کہ باوجود 1950ء ، 1951ء اور 1952ء میں جماعت احمدیہ کی طرف سے متواتر پروٹسٹ کرنے کے حکومت نے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔اس نے روم کے بادشاہ نیرو کے نقش قدم پر چلنا پسند کیا جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ Rome burns but Nero plays with his fiddle آخر وجہ کیا ہے کہ جبکہ جماعت احمد یہ متواتر فسادات کے پید اہونے کے امکان کی طرف حکومت کو توجہ دلاتی رہی۔حکومت انہیں یہ طفل تسلیاں دیتی رہی کہ فسادات کا