انوارالعلوم (جلد 24) — Page 404
انوار العلوم جلد 24 404 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب کام دیتی ہے دنیا کی ادنیٰ سے ادنی حکومت بھی ان اصول کے ماتحت نہیں چل سکتی۔پس ہمارے نزدیک حکومت کی بے حسی اور عدم توجہی اور عدم تنظیم ان فسادات کی ذمہ دار ہے لیکن اصل ذمہ داری ان لوگوں پر آتی ہے جو کہ اپنے ارادوں کو ظاہر کرتے تھے ، لوگوں کو فساد کے لئے اکساتے تھے اور اس بارہ میں تنظیم کر ر تھے۔یہ کہہ دینا کہ کوئی شخص ایسے الفاظ نہیں بولتا تھا جن سے وہ قانون کی زد میں آئے درست نہیں کیونکہ اول تو اخباروں کے کٹنگز اور تقریروں کے بعض حوالہ جات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے الفاظ بولے جاتے تھے۔دوسرے ایسے مواقع پر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ الفاظ کیا بولے جاتے تھے دیکھا یہ جاتا ہے کہ کس ماحول میں وہ بولے جاتے تھے اور کیا ذہنیت وہ لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے تھے۔اگر یہ ثابت ہو جائے کہ ایک خاص ذہنیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک خاص سکیم کے ماتحت جو فتنہ وفساد کو پیدا کرنے میں محمد ہو سکتی ہے کچھ الفاظ بولے جاتے تھے جن میں رائج الوقت قانون سے بچنے کی بھی کوشش کی جاتی تھی تو یقیناً الفاظ خواہ کچھ ہی ہوں اس بات کو ماننا پڑے گا کہ فساد کے لئے لوگوں کو تیار کیا گیا اور متواتر تیار کیا گیا۔اور پھر جب ہم دیکھتے ہیں کہ عین فساد کے دنوں میں جلسوں کی حد سے نکل کر ایک مقررہ تنظیم کے ماتحت سارا فساد آگیا تو ماننا پڑتا ہے کہ جو لوگ جلسوں میں محتاط الفاظ استعمال کرتے بھی تھے اپنی خلوت میں دوسرے کام کرتے تھے۔اگر ایسا نہیں تھا تو اچانک شورش ایک انتظام کے ماتحت کس طرح آگئی اور اس کو باقاعدہ لیڈر کہاں سے مل گئے۔آخر وہ کیا بات تھی کہ جلسوں میں تو محض لوگوں کو ختم نبوت کی اہمیت بتائی جاتی تھی لیکن فسادات کے شروع ہوتے ہی جتھے لاہور کی طرف بڑھنے شروع ہوئے۔ایک شخص نے آکر مسجد وزیر خان میں راہنمائی اور راہبری سنبھال لی اور لوگ اس کا حکم ماننے لگ گئے اور دوسروں نے دوسرے علاقوں میں باگ ڈور سنبھال لی۔جس دن شورش کرنی ہوتی تھی مختلف طرف سے جتھے نکلتے تھے لیکن شورش ایک یا دو مقامات پر کی جاتی تھی۔جب گرفتاریاں ہوتی تھیں تو شورش پسند لیڈ روہاں سے بھاگتے تھے اور ان کو پناہ دینے کے لئے پہلے سے جگہیں موجود ہوتی تھیں۔حکومت کو