انوارالعلوم (جلد 24) — Page 403
انوار العلوم جلد 24 403 تحقیقاتی کمیشن کے تین سوالوں کے جواب کی گئیں اور ہمارے لئے یہ نتیجہ نکالنا بالکل ممکن تھا کہ اس کا اصل موجب کون تھا۔ہاں ہم شہادتوں کو دیکھ کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ صوبہ جاتی حکومت میں قطعی طور پر بے عملی پائی جاتی تھی۔خیال تھا کہ : ہمیں یہ سن کر نہایت ہی تعجب ہوا ہے کہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ کا صرف یہی (اول) ان کو اس امر کے متعلق وہی کارروائی کرنی چاہیے جس کے متعلق ان کے ماتحت رپورٹ کریں۔(ب) جب کوئی معاملہ زیر بحث آئے تو ان کے لئے یہ کافی تھا کہ وہ اپنے افسروں کے ساتھ تبادلہ خیال کے بعد درست یا غلط کوئی حکم دے دیں ان کے نزدیک اس بات کی کوئی ضرورت نہیں تھی کہ وہ یہ بھی دیکھیں کہ وہ حکم نافذ بھی ہوا ہے یا نہیں۔(ج) ان کے نزدیک انصاف کا تقاضا اس سے پورا ہو جاتا تھا کہ اگر ظالم اور مظلوم دونوں کو ایک کشتی میں سوار کر دیا جائے اور اس طرح دنیا پر ظاہر کیا جائے کہ وہ سب قسم کے لوگوں کو ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں۔اور یہی کیفیت ہم کو لاہور کے انتظامیہ حکام میں نظر آتی ہے اور یہیں فساد سب سے زیادہ ہوا ہے۔گواہیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت لاہور میں جو ذمہ دار افسر تھا اُس کے نزدیک بھی اوپر کے ہی اصول قابل عمل تھے اور انہی پر وہ عمل کرتا رہا ہے۔شاید جرمنی کے مشہور چانسلر پرنس بسمارک کا یہ قول ہے کہ "افسر اس لئے مقرر کئے جاتے ہیں کہ وہ دیکھتے رہیں کہ اُن کا ماتحت عملہ قواعد اور احکام کی پابندی کرتا ہے " مگر ان شہادتوں کے پڑھنے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ افسر اس لئے مقرر کئے جاتے ہیں کہ وہ ایک فیصلہ کریں اور پھر کبھی نہ دیکھیں کہ اس پر عمل ہوا ہے یا اس لئے مقرر کئے جاتے ہیں کہ وہ اس انتظار میں رہیں کہ ان کے ماتحت افسر کوئی کارروائی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں۔اگر وہ کارروائی کرنا چاہیں تو پھر مناسب طور پر وہ اس کارروائی کو بستہ میں لپیٹ دینے کی کوشش کریں اور اگر وہ کوئی کارروائی نہ کروانا چاہیں تو وہ اس انتظار میں رہیں کہ کبھی وہ عمل کی طرف متوجہ ہوں گے یا نہیں۔جہاں تک ہماری عقل