انوارالعلوم (جلد 24) — Page 382
انوار العلوم جلد 24 382 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان سوال: کیا مرزا غلام احمد صاحب نے تشریعی نبی ہونے کا دعویٰ کیا تھا؟ جواب: نہیں۔سوال: کیا مرزا غلام احمد صاحب نے اربعین حصہ چہارم کے صفحہ 84،83 میں یہ نہیں لکھا کہ: "ماسوائے اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند اوامر اور نہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں کیونکہ میری وحی میں اوامر بھی ہیں نہی بھی۔مثلاً یہ الہام قُلْ لِلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُضُّوا مِنْ ابْصَارِهِمْ وَيَحفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ۔یہ الہام براہین احمدیہ میں درج ہے اور اس میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔اور اس پر تیئیس برس کی مدت بھی گزر گئی اور ایسا ہی ابتک میری وحی میں امر بھی ہوتے ہیں اور نہی بھی۔اور اگر کہو کہ شریعت سے وہ شریعت مراد ہے جس میں نئے احکام ہوں تو یہ باطل ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان هذَا لَفِي الصُّحُفِ الأولى - صُحُفِ ابْراهِيمَ وَمُوسى ٤ یعنی قرآنی تعلیم توریت میں بھی موجود ہے۔اور اگر یہ کہو کہ شریعت وہ ہے جس میں باستیفاء امر اور نہی کا ذکر ہے تو یہ بھی باطل ہے کیونکہ اگر توریت یا قرآن شریف میں باستیفاء احکام شریعت کا ذکر ہوتا تو پھر اجتہاد کی گنجائش نہ رہتی۔غرض یہ سب خیالات فضول اور کو تاہ اندیشیاں ہیں۔ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں اور قرآن ربانی کتابوں کا خاتم ہے۔تاہم خدا تعالیٰ نے اپنے نفس پر حرام نہیں کیا کہ تجدید کے طور پر کسی اور مامور کے ذریعے سے یہ احکام صادر کرے کہ جھوٹ نہ بولو، جھوٹی گواہی نہ دو، زنانہ کرو، خون نہ کرو لا وو