انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 371 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 371

انوار العلوم جلد 24 371 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان 11 جون 1944ء کو آپ نے ملفوظات میں کہا تھا کہ : ”پاکستان اور آزاد حکومت کا مطالبہ ہندوستان کی غلامی کو مضبوط کرنے والی زنجیریں ہیں۔“ جواب: ہاں۔لیکن میں نے یہ اس لئے کہا تھا کہ میرے اور مولانا مودودی سمیت کئی سر کردہ مسلمانوں کی یہ رائے تھی کہ قیام پاکستان کا مطالبہ ہندوستان کی آزادی کو مشکل بنا دے گا۔ان دنوں پاکستان کے قیام کو ناممکن سمجھا جاتا تھا کیونکہ انگریز ایسی مملکت کے قیام کے خلاف تھے۔سوال: کیا جیسا کہ الفضل مورخہ 5۔اپریل 1947ء میں شائع ہو اتھا آپ نے یہ کہا تھا کہ: (الف) اس لئے ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہندو مسلم سوال اُٹھ جائے اور ساری قومیں شیر وشکر ہو کر رہیں ملک کے حصے بخرے نہ ہوں۔بیشک یہ کام بہت مشکل ہے مگر اس کے نتائج بھی بہت شاندار ہیں۔“ (ب) ممکن ہے عارضی طور پر افتراق ہو اور کچھ وقت کے لئے دونوں قومیں جدا جدا رہیں مگر یہ حالت عارضی ہو گی اور ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جلد ڈور ہو جائے“ (ج) بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر وشکر ہو کر رہیں۔جواب: الفضل مورخہ 5 اپریل 1947ء میں میری تقریر صحیح طور پر رپورٹ نہیں ہوئی۔صحیح رپورٹ 12 اپریل 1947ء میں شائع ہوئی ہے۔سوال : کیا آپ کی جماعت میں کوئی ملا بھی ہے؟ جواب: "ملا " کا لفظ "مولوی" کا مترادف ہے اور یہ لفظ تحقیر کے لئے استعمال نہیں ہوتا۔مُلا علی قاری، مُلا شور بازار اور مُلا باقر جو تمام معروف شخصیتیں ہیں ملا کہلاتے ہیں اور اس میں فخر محسوس کرتے ہیں یا کرتے رہے ہیں۔سوال: کیا آپ نے سندھ سے واپسی پر کوئی پریس انٹر ویو دیا تھا جو 12 / اپریل 1947ء