انوارالعلوم (جلد 24) — Page 370
انوار العلوم جلد 24 370 تحقیقاتی عدالت میں حضرت امام جماعت احمدیہ کا بیان جواب: اُس وقت جب یہ عبارت شائع ہوئی تھی میرا کوئی ڈائری نویس نہیں تھا اس لئے میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ میری بات کو صحیح طور پر رپورٹ کیا گیا ہے یا نہیں۔تاہم اس کا مجازی رنگ میں مطلب لینا چاہئے۔میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہم زیادہ خلوص سے عمل کرتے ہیں۔سوال: کیا آپ نے انوار خلافت کے صفحہ 93 پر کہا ہے کہ: اب ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے اِس لئے اُن کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اُس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے وہ تو مسیح موعود کا مُكَفِّر نہیں۔میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا؟“ جواب: ہاں۔لیکن یہ بات میں نے اس لئے کہی تھی کہ غیر احمدی علماء نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ احمدیوں کے بچوں کو بھی مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا جائے۔واقعہ یہ ہے کہ احمدی عورتوں اور بچوں کی نعشیں قبروں سے اکھاڑ کر باہر پھینکی گئیں۔چونکہ اُن کا فتویٰ اب تک قائم ہے اس لئے میر افتویٰ بھی قائم ہے البتہ اب ہمیں بانی سلسلہ کا ایک فتویٰ ملا ہے جس کے مطابق ممکن ہے کہ غور و خوض کے بعد پہلے فتویٰ میں ترمیم کر دی جائے۔سوال: کیا یہ صحیح ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب نے حقیقۃ الوحی کے صفحہ 163 پر لکھا ہے که مانتا۔“ علاوہ اس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں جواب: ہاں۔یہ الفاظ اپنے عام معنوں میں استعمال ہوئے ہیں۔سوال: 1944ء میں قیام پاکستان کے متعلق آپ کا طرز عمل کیا تھا؟ کیا یہ صحیح ہے کہ