انوارالعلوم (جلد 24) — Page 286
انوار العلوم جلد 24 286 سیر روحانی (7) بن جاؤ یعنی نہ وہ لوگوں پر ظلم کریں، نہ حریت ضمیر میں دخل دیں، نہ وہ غیر مذاہب کو اپنے مذہب پر جبر آلانے کی کوشش کریں اور نہ کسی کا حق ماریں بلکہ لوگوں کو اچھی باتوں کی تعلیم دیں، بُری باتوں سے روکیں اور لوگوں پر اس طرح روپیہ خرچ کریں کہ ملک ترقی کرے۔زکوۃ کے معنے ترقی کے بھی ہوتے ہیں پس زکوۃ دینے کے یہ معنے ہیں کہ ملکی ترقی کے لئے کوشش کریں اور خدا تعالیٰ کیلئے اپنے آپکو بنا دیں تو فرماتا ہے تمہارے دس، سو پر غالب آسکتے ہیں گویا سات کروڑ پاکستانی مسلمان ستر کروڑ پر غالب آسکتے ہیں اور ستر کروڑ کی حکومت دنیا میں کوئی نہیں۔بڑی سے بڑی حکومت پچاس کروڑ کی ہے تو گویا اس کے معنے یہ ہیں کہ اگر صرف پاکستان کے مسلمان ہی ایسے بن جائیں تو وہ دنیا کی بڑی سے بڑی حکومت کو شکست دے سکتے ہیں اور ساری دنیا کے مسلمان، عیسائی کہتے ہیں کہ چالیس کروڑ ہیں اور مسلمان کہتے ہیں ساٹھ کروڑ ہیں۔اس حساب سے اگر چالیس کروڑ بھی تسلیم کریں تو چار ارب پر یہ مسلمان غالب آسکتے ہیں بشر طیکہ وہ اس قسم کے مسلمان بن جائیں جس قسم کے مسلمان بننے کے لئے قرآن کہتا ہے۔اور اگر وہ ساٹھ کروڑ ہوں جیسا کہ مسلمان کہتے ہیں تو اس صورت میں چھ ارب پر غالب آسکتے ہیں لیکن دنیا کی ساری آبادی سوا دو ارب ہے۔گویا اگر مسلمان ساری دنیا سے بھی لڑیں تو قرآنی وعدہ کے مطابق دنیا کی آبادی اگر ڈگنی بھی ہو جائے تب بھی وہ اُن پر غالب آسکتے ہیں۔یہ کتنی عظیم الشان بات ہے لیکن اس کے باوجود مسلمان کیوں کمزور ہیں ؟ اس لئے کہ وہ اُن شرطوں کو پورا نہیں کرتے۔ان شرطوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہماری مدد تمہیں تب حاصل ہو گی جبکہ تم میرے لئے لوگوں کی دشمنی سہیڑو، میرے نام کو روکنے کے لئے لوگوں کی دشمنی نہ کرو بلکہ میری خاطر لوگوں کی دشمنی سہیڑو۔لوگوں کے ظلم سہو اور دنیا میں جو لوگ میرا نام لینے والے ہیں چاہے وہ عیسائی ہو کے میرا نام لیں، چاہے وہ یہودی ہو کے میرا نام لیں یا مجوسی ہو کر میرا نام لیں جب بھی کوئی میرا نام لے تو کہو ہاں یہ تو ہمارے خدا کا نام لے رہا ہے۔گویا نمایاں چیز بتادی ہے کہ کونسے اخلاق کے بعد خدا کی مدد آتی ہے اور فرماتا ہے تم اس لئے غالب آؤ گے کہ وہ نہیں سمجھتے یعنی جو تعلیم تمہیں دی گئی ہے اس کے