انوارالعلوم (جلد 24) — Page 283
انوار العلوم جلد 24 283 سیر روحانی (7) ششم اس اعلانِ جنگ میں یہ پہلے سے بتا دیا گیا تھا کہ گو دشمن طاقتور ہے اور مسلمان کمزور ہیں لیکن فتح مسلمانوں کو ہی نصیب ہو گی اور دشمن کو شکست ہو گی۔مسلمانوں کے غلبہ کی پیشگوئی اِس سلسلہ میں اور اعلان بھی کئے گئے اور کہا گیا کہ الا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ 32 چلو تم لوگ خدا کی خاطر مرنے کیلئے تیار ہو گئے ہو اور خدا تعالیٰ اپنی خاطر مرنے والوں کو خالی نہیں چھوڑے گا بلکہ وہ اُن کو مدد دے گا اور کامیاب کرے گا۔پھر فرمایا فَانَ حِزْبَ اللهِ هُمُ الغَلِبُونَ 33 یقیناً خدا کا گروہ جو خدا کی خاطر لڑنے والا ہے وہی غالب آئے گا۔مگر چونکہ اس طرح آپ نے اعلان کیا تھا کہ ہم کمزور ہیں۔آپ نے اعلان کیا تھا کہ ان میں کوئی طاقت نہیں اور آپ نے اعلان کیا تھا کہ ان کو ملکوں سے نکال دیا گیا ہے پھر بھی یہ نہیں بول سکے گویا ان کی ہمت گرادی گئی تھی کہ تم ہو تو بالکل ہی گھٹیا طرز کے غریب اور بے سامان لیکن ہم تم کو لڑائی کا حکم دیتے ہیں اسلئے اُن کے دلوں میں ایک مایوسی سی پیدا ہو سکتی تھی ہم تھوڑے بھی ہیں اور سامان بھی نہیں تو کیا بنے گا اس لئے فرمایا کہ بے شک جو باتیں ہم نے بتائی ہیں وہ تمہارے ظاہری حالات ہیں لیکن كَمْ مِنْ فِئَةٍ قَلِيلَةٍ غَلَبَتْ فِئَةً كَثِيرَة بِاِذْنِ اللهِ 34 یاد رکھو! بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتیں ہیں جو بڑی بڑی جماعتوں پر غالب آجاتی ہیں۔مگر کب ؟ جب اللہ تعالیٰ کا اُن کو حکم ہو تا ہے۔گویا أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا کہ تم یہ سمجھو کہ تم اپنی طرف سے لڑنے نہیں جار ہے بلکہ خدا تعالیٰ کے حکم سے لڑنے جارہے ہو اور جب خدا کسی لڑائی کا حکم دیتا ہے تو چھوٹی جماعت ہمیشہ بڑی جماعتوں پر غالب آجایا کرتی ہے۔اب میں اس آیت کے ٹکڑے ٹکڑے لے کر بتاتا ہوں کہ اِس میں کیا مضمون بتایا گیا ہے۔پہلے بتایا گیا ہے کہ أذِنَ لِلَّذِينَ يُقْتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا۔وہ لوگ جن سے لوگ بلا وجہ لڑائی کرتے ہیں اُن کو حکم دیا جاتا ہے کہ چونکہ اُن پر حملہ کیا گیا ہے اس لئے وہ لڑائی کے لئے نکلیں۔وَإِنَّ اللهَ عَلَى نَصْرِهِم لَقَدِيرُ اور ہم اُن کو بتا دیتے ہیں کہ باوجود اس کے کہ اُن میں لڑائی کی طاقت نہیں ہے مگر خدا میں طاقت ہے اور وہ اُن کی مدد کر سکتا ہے۔الَّذِيْنَ اُخْرِجُوا مِنْ 9