انوارالعلوم (جلد 24) — Page xxviii
--------- انوار لعلوم جلد 24 xviii در حقیقت مختلف خدمات مختلف حیثیتوں کے لحاظ سے ہوتی ہیں۔مثلاً جو شخص پاکستان میں رہتا ہے اُس پر کچھ فرائض پاکستانی ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتے ہیں کچھ فرائض ایک انسان ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتے ہیں۔اسی طرح اگر کوئی سرکاری ملازم ہے تو کچھ فرائض اُس پر سرکاری ملازم ہونے کے لحاظ سے عائد ہوتے ہیں۔اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو کچھ فرائض اُس پر ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے عائد ہوتے ہیں۔اگر کوئی پولیس مین ہے تو کچھ فرائض اُس پر پولیس مین ہونے کی حیثیت سے عائد ہوتے ہیں۔ایک حیثیت کے کام کو اپنی دوسری حیثیت کے ثبوت میں پیش کرنا محض تمسخر ہوتا ہے۔مثلاً ایک ڈاکٹر کا یہ لکھنا کہ میں نے ہیں مریضوں کا علاج کیا تمسخر ہے۔کیونکہ اُس نے جو کام کیا ہے اپنے ڈاکٹر ہونے کی حیثیت سے کیا ہے۔خدام الاحمدیہ کا ممبر ہونے کی حیثیت سے نہیں کیا۔پس اپنے پروگراموں پر ایسے رنگ میں عمل کرو جیسے اس دفعہ لاہور کے خدام نے خصوصیت سے نہایت اعلیٰ کام کیا ہے۔اسی طرح ربوہ کے خدام نے بھی اچھا کام کیا ہے۔سیالکوٹ کے خدام نے بھی اچھا کام کیا ہے۔ملتان کے خدام نے بھی اچھا کام کیا ہے اور کراچی کے خدام نے بھی بعض اچھے کام کئے ہیں گو وہ نمایاں نظر آنے والے نہیں۔پس متواتر اپنے جلسوں اور مجلسوں میں اس امر کو لاؤ کہ تم نے زیادہ سے زیادہ خدمتِ خلق کرنی ہے اور ایک پروگرام کے ماتحت کرنی ہے تاکہ ہر شخص کو تمہاری خدمت محسوس ہو۔انوار العلوم جلد 24 صفحہ 425،424) حضور نے اپنے اس بصیرت افروز خطاب کے آخر میں خدام کو مخاطب ہو کر فرمایا۔”ہمیشہ ہی ہم مسلمانوں کی خدمت کرتے رہے ہیں مگر ہمیشہ ہم ان خدمات کو چھپاتے رہے ہیں۔اور کہتے رہے ہیں کہ ان خدمات کے اظہار کا کیا فائدہ؟ ہم