انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxix of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page xxix

انوار العلوم جلد 24 xix نے جو کچھ کیا ہے خدا کے لئے کیا ہے، انسانوں کے لئے نہیں کیا۔مگر آج کہا جارہا ہے کہ احمدی مسلمانوں کے دشمن ہیں۔یہ مسلمانوں کی کبھی خدمت نہیں کرتے۔غرض اتنے بڑے جھوٹ اور افتراء سے کام لیا جاتا ہے کہ اب ہم اس بات پر مجبور ہو گئے ہیں کہ جماعت کے دوستوں سے کہیں کہ اچھا تم بھی اپنی خدمات کو ظاہر کرو۔۔۔۔۔اور دنیا کو بتا دو کہ ہم ملک اور قوم کی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں مگر چونکہ ہمیں مجبور کیا جاتا ہے کہ ہم اپنی خدمات کو ظاہر کریں اس لئے ہم ان کو ظاہر کرتے ہیں۔ورنہ ہمارے دل اس اظہار پر شرماتے ہیں۔پس اپنے پروگراموں میں زیادہ سے زیادہ ایسے امور پر غور کرو اور ایسی تجاویز سوچو جن کے نتیجہ میں تم ملک اور قوم کی زیادہ سے زیادہ خدمت (انوار العلوم جلد 24 صفحہ 428 تا430) (9) مجلس خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کا کن صفات سے متصف ہونا بجالاؤ۔“ ضروری ہے مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع 1954 ء کے آخری روز مورخہ 17 نومبر 1954ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اختتامی خطاب فرمایا جو 9 / فروری 1955ء کے روز نامہ الفضل میں پہلی بار شائع ہوا۔حضور نے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے اپنے 5 / نومبر 1954ء کے خطاب میں دی گئی ہدایت کہ " یک جہتی پیدا کرنے کے لئے خدام کے کھڑے ہونے کی پوزیشن مقرر کریں اور فیصلہ کریں کہ آئندہ خدام جب بھی کسی موقع پر کھڑے ہوں تو ان کی پوزیشن ایک ہی ہو" کا حوالہ دے کر عہدیداروں سے پوچھا کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے خدام کے کھڑے ہونے کی کون سی پوزیشن مقرر کی ہے۔اس پر حضور نے نہایت لطیف انداز میں عہد کے دوران کھڑے ہونے کے طریق کو بیان فرمایا اور ٹوپی پہنے کی نصیحت فرمائی۔اس کے بعد حضور نے بعض انتظامی امور کی طرف توجہ دلائی اور محترم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب اور مکرم سید داؤد احمد صاحب