انوارالعلوم (جلد 24) — Page 217
انوار العلوم جلد 24 217 متفرق امور بڑا نفع آجاتا ہے۔مجھے ایک وقت خیال آیا۔میں نے دیکھا کہ اس میں شریعت کی کوئی حرمت نہیں ہے جائز ہے بیع سلم ہے تو میں نے حکم دے دیا ایک انگریزی فرم کو کہ میری طرف سے اتنی خرید لو۔میں نے کہا نقصان ہو گا تو ادھر اُدھر سے پُر کر لیں گے۔مہینہ کے بعد ریٹ اتنے بڑھے کہ میں نے اس کو تار دی کہ اس کو بیچ ڈالو۔اُس نے بیچ دی اور تیس ہزار روپیہ نفع آیا۔پھر میں نے اس سے دُگنی اُس کو تار دے دی کہ اتنی خرید لو۔پھر اُس نے خرید لی۔مہینہ کے بعد وہ اتنی بڑھ گئی کہ میں نے اُس کو تار دی کہ پیچ ڈالو۔اس میں مجھے کوئی ستر ہزار کا نفع آ گیا۔پھر میں نے اُسے کہا کہ اور اتنی خرید لو تین مہینے کے اندر اندر دو لاکھ بیس ہزار کا نفع آیا۔اس کے بعد میں نے سمجھا کہ یہ کام تو بڑا اچھا ہے یہ خیال نہ آیا کہ اس میں گھاٹا بھی ہے، نقصان بھی ہے۔میں نے کہا اور خرید لو۔پھر گرنی شروع ہو گئی۔میں نے دو آدمی اپنے مقرر کئے وہاں۔جب گرنی شروع ہوئی تو چالیس ہزار کا نقصان ہوا۔میں نے کہا چلو ڈیڑھ لاکھ بچتا ہے لیکن میں نے کہا اب تم ختم کر دو۔اب وہ جنہوں نے روپیہ دیا ہوا تھا وہ تو چاہتے تھے کہ ہم سے واپس لیں اس لئے میں کہوں ختم کر دو اور وہ کہیں اب بڑھنی ہے قیمت۔اب اس وقت نقصان ہو جائے گا اس وقت روک لو پھر بڑھنی ہے۔نتیجہ یہ ہوا کہ اور چالیس ہزار کا گھاٹا پڑ گیا۔مجھے اس کی اطلاع ملی تو میں نے کہا میں نے تو تمہیں کہا تھا بیچ ڈالو۔کہنے لگے انہوں نے کہا تھا بڑھنی ہے قیمت۔میں نے کہا اچھا اب تو پیچ دو۔پھر وہ اُن کو کہیں کہ دیکھو جتنی گرنی تھی گر چکی ہے اب اس نے بڑھنا ہے اس طرح وہ لیتے چلے گئے دولاکھ آٹھ ہزار کا گھاٹا ہوا۔مجھے تو اب مزا آیا میں نے کہا دیکھو اللہ تعالیٰ کا میرے ساتھ سلوک کہ پہلے میرے گھر میں روپیہ بھیجا پھر نقصان کیا۔جو پہلے نقصان ہو تا تو میر ادیوالہ نکل جانا تھا۔ہمارا ایک عزیز میرے پاس آیا اور کہنے لگا میں آپ کو کہنے آیا ہوں بات۔میں نے حضرت صاحب کو خواب میں دیکھا ہے حضرت صاحب آئے او رکہنے لگے دیکھو ( اُسکی بھی زمینداری تھی) خواہ مخواہ کا غم اور مصیبت لینے کا کیا فائدہ ہے۔آئندہ یہ مت کام کرو، تو بہ کرو۔اور پھر انہوں نے آپ کا نام لیا کہ اُن کو بھی میرا یہ پیغام پہنچا دینا