انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 216

216 انوار العلوم جلد 24 درست کرنے کے لئے ان چیزوں کے تجربے نہایت ضروری اور مفید ہیں۔صناع اپنی صنعتوں کو ترقی دیں اسی طرح صناعوں کو میں کہتا ہوں کہ وہ بھی اپنی صنعتوں کو زیادہ سے زیادہ اچھا بنانے کی کوشش کریں۔وہی ہماری چیزیں ہیں جن کو یورپ والوں نے کہیں کا کہیں پہنچادیا ہے۔مختلف قسم کے وہ بناتے ہیں پرزے ایسے جنکی وجہ سے اُس کی بناوٹ میں بڑی زیادتی ہو جاتی ہے۔مثلاً کوئی چیز ہم ہاتھ سے پکڑ کے بناتے ہیں اُس کی حرکت کی وجہ سے اُس کی لرزش کی وجہ سے وہ دیر میں بنتی ہے۔انہوں نے اس کے لئے پرزہ ایسا بنالیا مثلاً پھنسا دیا۔اُس میں پھنسا کے پھر وہ بڑی آسانی سے کام کرتے چلے جاتے ہیں۔جس میں ہمارا آدمی ایک بناتا ہے وہ دس بناتے ہیں تو ہمارے صناعوں کو بھی چاہئے کہ وہ ایجاد کی طرف توجہ کریں۔گاندھی جی نے جب چرخہ کی تحریک کی تو پانچ سو چرخہ اُن کے اتباع نے ایجاد کیا تھا اور ایسے ایسے اچھے چرخے تھے کہ جنہوں نے ہمارے ملک کے کھدر کی بناوٹ کو چار چاند لگا دیئے تھے اسی طرح اگر ہمارے آدمی اس بات میں لگیں کہ ترقی کرنی ہے۔پرزے ایجاد کرنے ہیں۔نئی نئی مشینیں ایجاد کرنی ہیں تو پھر ہمارے صناع جو ہیں ترقی کر جائیں گے۔تاجر اپنی تجارت بڑھائیں اسی طرح تاجروں کو بھی اپنی تجارت کو بڑھانے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کا طریقہ یہی ہے دیکھو ہماری شریعت کا حکم ہے۔چھوٹا چھوٹا حکم ہوتا ہے بڑی برکت والا ہوتا ہے۔میں نے دیکھا ہے جتنے میرے پاس تاجر دعاؤں کے لئے لکھتے ہیں مر گئے ، مر گئے۔ایک ہی وجہ نکلتی ہے کہ مال لیا پھر روک لیا اب بیٹھے ہیں کہ قیمت بڑھ جائے گی قیمتیں۔یہ کس طرح پتہ لگا کہ بڑھ جائیں گی؟ یہ کیوں نہیں پتہ لگا گھٹ جائیں گی۔ہماری چونکہ سندھ میں کپاس بڑے پیمانہ پر ہوتی تھی اور وہاں ہیجنگ (HEDGING) کرتے ہیں یعنی پیشگی بیچ لیتے ہیں۔اس پیشگی بیچنے میں بعض دفعہ تھوڑے سے روپیہ سے اپنی پیداوار سے زیادہ بھی بیچ سکتے ہیں اور اس میں بعض