انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 174 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 174

انوار العلوم جلد 24 174 سے آگے ان کو نہیں بڑھنے دینا۔تو میں نے دیکھا کہ اونچی پہاڑی پر وہ قابض ہیں اور ہم ہیں نیچے اور ہر وقت اُن کے گولے پڑتے ہیں تو ہم نے فیصلہ یہ کیا کہ اس پہاڑی سے ان کو اُتارنا چاہئے ورنہ یہ آگے آجائیں گے اور ہم روک نہیں سکیں گے۔چنانچہ میں نے اپنے فوجی افسروں کو بلا کر مشورہ کیا اور ایک ہوشیار کر نیل کے سپر د کمان کی اور اندازے لگائے کہ اُس پہاڑی کے سامنے اور اُس کے اوپر کتنی فوج ہو گی۔ہوائی جہاز استعمال کرنے کی تو ہم کو اجازت نہیں تھی ہم دیکھ سکتے تھے یا فوجی سپاہیوں کو بھیج کر معلوم کر سکتے تھے۔تو جب میں نے معلوم کیا تو جو اندازہ ہم نے لگایا تھا کہ اتنی فوج ہو گی اتنی تو ہیں ہوں گی اُس کے اوپر ہم نے فوج بھیج دی۔وہ آدمی بڑا اچھا ہوشیار تھا اُس نے جاکر حملہ کیا لیکن جب حملہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس کی پشت پر بہت زیادہ فوج پڑی ہوئی تھی اور بہت زیادہ سامان بندوق اور تو ہیں وغیرہ تھیں۔بہر حال انہوں نے حملہ کر دیا چوٹی کے قریب پہنچے اور بہت بُری طرح اُن کو انہوں نے دبایا اور بڑی بہادری سے حملہ کرتے ہوئے نکلے اور فائدہ یہ ہوا کہ ہماری ایک فوج جو پھنسی ہوئی تھی وہ بیچ کے آگئی۔تو کہنے لگے ہندوستانی ریڈیو نے بہت شور مچایا کہ سات سو آدمی مارا گیا ہے اور تین ہزار قید ہو گیا ہے اور یہ ہے اور وہ ہے۔کہنے لگے ہماری تو صرف ایک بٹالین تھی ہزار آدمی کی اِس میں سے سات سو مارا گیا تو زخمی ہونے اور قیدی ہونے کا تو کوئی سوال ہی نہیں ہو تا۔کہنے لگے آرڈر آگئے۔کمانڈر انچیف نے مجھ سے جواب طلبی کی کہ تم نے سات سو آدمی مروا دیا ہے اور اتنا آدمی قید کر وا دیا ہے اور رپورٹ کوئی نہیں۔میں نے جواب یہ دیا کہ صاحب ! یہ جھوٹ ہے وہ تو روز جھوٹ بولتے ہیں اُن کی تو غرض یہ ہے کہ اپنے آدمیوں کے حوصلے بڑھائیں اور ہمارے حوصلے گرائیں۔اتنی فوج نے حملہ کیا ہے اور سات آدمی گل مرے ہیں اور قید خبر نہیں اُس نے تین چار بتائے یا کہا کوئی نہیں ہوا۔اور ہمارا فائدہ یہ ہوا کہ ہماری ایک رجمنٹ جو پھنسی ہوئی تھی وہ بیچ کے آگئی اور دوسرے ہم نے اُن کا بڑا سخت نقصان کیا اور اُن پر رعب قائم کیا۔چوٹی پر ہماری فوج پہنچ گئی۔ہم نے تو بڑا اچھا کام کیا ہے۔تو کہنے لگے پھر دوبارہ اس کے اوپر مجھ سے جواب طلبی ہوئی کہ یہ بتاؤ سات آدمی کیوں مرے ہیں ؟ تو