انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 173

انوار العلوم جلد 24 173 اپنی جانیں دینے کا۔وہاں جو ان لوگوں نے مسلمانوں کے ساتھ سلوک کیا ہے ہم فوجی دیکھ کے آئے ہیں۔اب یہی موقع ہے ہمارے لئے ہم فوجی ہیں کس لئے ؟ ہمیں جانیں دینے کے لئے رکھا گیا ہے تو جان دینی نہیں تو ہمیں رکھنے کا کیا مطلب۔وہ بیشک فوجی افسر ہے پاکستان کا لیکن آپ اُسے کہیں وہ آپ کی بات مان لے گا آپ اُس کو کہیئے میں بھاگ جاؤں گا میرے خلاف کوئی کیس نہ چلائے پھر مر گیا تو میں مر گیا نہیں تو میں پھر آجاؤں گا مجھے صرف کشمیر جانے دیں۔میں نے کہا یہ غلط بات ہے بے اصولا پن ہے میں سر کاری افسر کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتا۔بس وہ کانپتا تھا، آنکھوں میں اُس کے آنسو آگئے اور کہنے لگا میں تو بڑی امید سے رات کو بھاگ کے آپ کے پاس پہنچا تھا۔میں نے کہا ٹھیک ہے بے اصولی بات میں نہیں کر سکتا۔حکومت کے انتظام میں بھی یہ بات خلل ڈالتی ہے اور ہے بھی یہ عقل کے خلاف بات۔میں نے کہا اِسی طرح میرے پاس ایک فوجی افسر آیا تھا، وہ نوجوان آدمی تھا آپ تو بڑے تجربہ کار ہیں۔کرنیل ہیں۔تو بات اصل میں یہ ہے کہ اُس وقت تو ابھی کئی کئی لڑائی ہو رہی تھی اس کے اوپر کوئی دباؤ نہیں تھا اس لئے اُس کا خون جوش میں آیا ہوا تھا آپ کو ایک لمبے عرصہ تک کہا گیا تھا کہ بیٹھو بھی، ٹھہرو بھی، صبر بھی کرو۔تو ہوتے ہوتے صبر کراتے کراتے آپ کا پارہ حرارت زیر و پر جا پہنچا۔میں نے اس کے بعد کہا میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔میں نے کہا لاہور میں ایک دعوت تھی ایک بڑا فوجی افسر مجھے ملا اور مجھے اُس نے کہا کہ میں آپ سے ایک مشورہ کرنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا کیا؟ کہنے لگا کوئی ترکیب ایسی آپ مجھے بتا سکتے ہیں کہ بغیر اس کے کہ کوئی ایک سپاہی بھی مارا جائے میں کشمیر فتح کرلوں؟ میں ہنس پڑا کہ یہ کیا آپ عقل کے خلاف بات کر رہے ہیں۔جب لڑائی ہو گی تو کچھ مریں گے بھی کچھ بچیں گے بھی۔اس کا کیا مطلب کہ بغیر ایک سپاہی مرنے کے کشمیر فتح کرلیں؟ کہنے لگا میں اِس لئے کہتا ہوں کہ میں ایک مورچے پر مقرر ہوں وہاں ایک پہاڑی اونچی تھی جس پر کہ ہندوستانی فوج تھی۔اُس وقت پاکستان اعلان کر چکا تھا کہ ہماری فوجیں آگے داخل ہو رہی ہیں تو مجھے حفاظت کے لئے حکم تھا کہ اس