انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 172 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 172

انوار العلوم جلد 24 172 طاقت میں ہے کہ تمہیں بڑے پر غلبہ دے دے تو اس لئے آپ گھبراتے کیوں ہیں؟ اللہ تعالیٰ پر توکل رکھیئے آپ تھوڑے ہیں خدا تعالیٰ آپ کو طاقت دے دے گا۔تو مسکرا پڑا مسکرا کر کہنے لگا دینیات کی باتیں تو یہ ٹھیک ہوئیں پر دنیا میں اس کا کیا تعلق ہے۔میں نے سمجھا یہ اس حد سے گزرا ہوا ہے۔پھر میں نے اُس کو ایک اور جواب دیا مگر وہ میرے کل کے مضمون کے ساتھ غالباً تعلق رکھتا ہے وہ اُدھر آجائے گا۔جب میں نے دیکھا یہ دین سے تو بالکل مایوس ہوا ہے تو میں نے کہا مجھے بڑا ہی تعجب ہے آپ پر۔آپ کی تو اتنی تعریف میر الڑ کا کیا کرتا تھا اور دوسرے ہمارے احمدی افسر کیا کرتے تھے کہ آپ کے ساتھ ہم نے مل کر کام کیا ہے اس قدر آپ ہمت والے تھے کہ خطرے میں اِس طرح گرتے تھے جائے کہ جس کی حد کوئی نہیں تو آپ آج اتنے مایوس ہیں؟ کہنے لگا پھر واقعات سے مایوس ہو جاتا ہے انسان۔تب میں نے یہ سمجھا کہ مذہب کی دلیل تو ان پر اثر نہیں کرتی اب ان کو کوئی دوسری دلیل دینی چاہئے۔میں نے کہا اصل بات یہ ہے کہ کتنا ہی بہادر آدمی ہو اگر اُس پر دباؤ ڈال کر کچھ دیر اُس کا غصہ ٹھنڈار کھا جائے تو ٹھنڈ ا ہو جاتا ہے۔چونکہ پاکستان گورنمنٹ لڑنا نہیں چاہتی وہ چاہتی ہے صلح کے ساتھ کام ہو جائے تو وہ اپنے افسروں کو ٹھنڈا کرتی رہتی ہے کہ دیکھنا ! جوش میں نہ آنا، جوش میں نہ آنا۔تو آپ کی روح ماری گئی اِس وجہ سے آپ کمزور ہیں ورنہ جس وقت لڑائی شروع ہو گئی تو دو چار دن میں آپ کا خون اتنا گرم ہو گا کہ جوش میں آجائیں گے۔میں نے کہا جب یہ پارینشن ہوا ہے ایک دن رات کے وقت ایک فوجی افسر چھاؤنی سے میرے پاس آپہنچا نو بجے کے قریب۔مجھے بتایا گیا کہ ایک لیفٹینٹ ملنے آیا ہے۔میں نیچے گیار تن باغ میں۔میں نے کہا آپ کس طرح ملنے آرہے ہیں؟ آپ احمدی تو نہیں ہیں ؟ کہنے لگا ہاں میں احمدی نہیں ہوں۔میں نے کہا تو یہ رات کے وقت آپ بھاگے ہوئے کہاں سے آئے ہیں؟ کہنے لگا جنرل نذیر یہاں آپ کا احمدی افسر ہے اُس کو کہیں کہ مجھے فارغ کر دے میں کشمیر میں لڑنا چاہتا ہوں۔میں نے کہا جنرل نذیر پاکستان کا جرنیل ہے یا میں نے اُسے مقرر کیا ہے ؟ میں اُسے کس طرح کہہ دوں کہ فارغ کر دو ؟ کانپ رہا تھا اُس نے کہا اور کون سا موقع آئے گا ہمیں