انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 169

انوار العلوم جلد 24 169 متفرق امور کھیت ہیں، ہمارے کام ہیں، کچھ بھی ہو ہر شخص خواہ بوڑھا ہے جوان ہے وہ سارے اپنے ملک کی مدد کے لئے نکل کھڑے ہونگے۔اس طرح بظاہر تو یہ ایک معمولی بات ہوتی ہے لیکن ہے یہ بڑی بات۔کیونکہ جب انسان پہلے سے ارادہ کر کے بیٹھتا ہے تو پھر اس کو موقع پر کام کرنے کی توفیق مل جاتی ہے۔لیکن اگر موقع پر ارادہ کرنا چاہے تو ارادے اور کام میں فاصلہ ہوتا ہے لازماً وہ اتنی دیر تک وقفہ کرتا ہے جتنی دیر میں کام خراب ہو چکا ہوتا ہے۔مسلمان ارادے کر کے بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے اسلام کی مدد کرنی ہے ذرا سا اشارہ ہوتا تھا تو فوراً کھڑے ہو جاتے تھے لیکن آج کا مسلمان جو ہے پندرہ سال اُن کے سامنے کھڑے ہو کر تقریریں کرنی پڑتی ہیں کہ اٹھو۔شاباش۔ہمت کرو تمہارے لئے مصیبت آئی ہے اِس کی وجہ یہی ہے کہ اُن کے اندر ارادہ پیدا نہیں ہوا۔اگر ارادے ہوتے تو نہ کسی تقریر کی ضرورت ہوتی نہ جلسے کی ضرورت ہوتی ایک اعلان ہو تا سارے نکل کھڑے ہوتے۔تو ارادہ رکھنا چاہئے اپنے دلوں میں کہ مصیبت کے وقت ہم اپنے ملک کی حفاظت کریں گے۔اسی طرح کشمیر کے متعلق بھی جو حالات ہیں وہ ایسے سنجیدہ ہو چکے ہیں اور ایسے اہم ہو چکے ہیں کہ میرے نزدیک اُس کا زیادہ انتظار نہیں کیا جاسکتا۔حکومت کی طرف سے تو بار بار یہ اعلان ہو رہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ قریب آگیا ہے لیکن ابھی مجھے نہیں نظر آتا کہ وہ قریب آیا ہوا ہو۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ وہ علم النفس کے ماتحت عمل کر رہے ہیں اور ہم علم الاخلاق پر اپنی بنیاد رکھ رہے ہیں۔علم الاخلاق کا اثر ایماندار پر ہوتا ہے اور علم النفس کا اثر ہر بے ایمان پر بھی ہوتا ہے۔اگر کسی بات پر غصہ آتا ہے تو بے ایمان کو بھی آئے گا لیکن غصہ کو روکنا بے ایمان کے قبضہ میں نہیں وہ ایماندار ہی روکے گا۔تو ہماری حکومت علم الاخلاق پر اپنی بات کی بنیاد رکھ رہی ہے۔یہ کہتے ہیں ہم نے اتنی لمبی قربانی کی تو اس کا اثر نہیں ہو گا؟ کیا نہر و صاحب مانیں گے نہیں کہ ہم نے دیکھو ایسی شرافت دکھائی۔اور وہ بنیاد علم النفس پر رکھ رہے ہیں۔وہ یہ جانتے ہیں کہ ایک مظلوم قوم ہے، غریب قوم ہے، غریب قوم کو جب ایک لمبے عرصہ تک آزادی نہیں ملے گی تو آہستہ آہستہ مایوس