انوارالعلوم (جلد 24) — Page 168
انوار العلوم جلد 24 168 افغانستان کے لوگ تو یہودی ہیں اس سے ہمارے دل کو بڑی تکلیف ہوئی ہے۔میں نے کہا بات اصل میں یہ ہے کہ آپ بھی اپنے بھائی سے کبھی لڑتے ہیں تو اسے کہہ دیتے ہیں چل دیوث! چل یہودی! انہوں نے تو ہمارے پانچ آدمی مارے ہیں۔اگر کسی نوجوان نے غصہ میں کہہ دیا تو آپ کو یہ بھی تو خیال رکھنا چاہئے کہ اس کے تو پانچ مرے ہوئے تھے تو اُس نے اگر کہہ دیا تھا تو تھا تو وہ بیوقوف ہی۔آپ مہمان تھے آپ کا ادب چاہئے تھا۔پھر اُس کو یہ خیال ہونا چاہئے تھا کہ اِس طرح یہودی کہنے سے کیا بنتا ہے ؟ کیا یہودی کہنے سے افغانستان تباہ ہو جائے گا ؟ صرف یہی ہو گا نا کہ جو افغانستان سے آیا ہوا ہے اُس کا دل دُکھے گا افغانستان کو اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔صرف بیوقوف نوجوان تھا آپ کو اُس کی بات کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔دیکھنا آپ کو یہ چاہئے کہ جو ذمہ وار جماعت کے ہیں وہ تو ساروں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔کسی نوجوان نے اگر کوئی بیوقوفی کی بات کی تو پھر بیوقوف ہوا ہی کرتے ہیں قوم میں۔کہنے لگا ہاں میں نے بھی یہی سمجھا تھا کہ یہ نوجوانوں نے کہا ہے۔میں نے کہا تو بس پھر آپ کو اس کا ذکر کرنے کی بھی ضرورت نہیں مجھ سے آکر پوچھئے میں تو دیکھو سب سے ہمدردی رکھتا ہوں۔جماعت کے لیڈروں سے ملئے وہ ہمد ردی رکھتے ہیں۔وہ تو نہیں اِس طرح کے لفظ بولیں گے۔تو ہمارے دل میں ہر ایک شخص کی ہمدردی ہونی چاہئے اور اس ہمدردی کا نتیجہ سب سے پہلے یہ ہے کہ ہم دعاؤں میں لگے رہیں اور خدا تعالیٰ سے اس کی امداد چاہیں اور جب موقع ہو تو صحیح مشورہ دیں اور صحیح مشورہ یقیناً اثر انداز ہوتا ہے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نصیحت کرنی ہمیشہ ہی فائدہ بخش ہوتی ہے فَذَكَرْ اِن نَفَعَتِ الذكرى ٤ نصیحت کر۔یہاں ان کے معنے قد کے ہیں کیونکہ نصیحت سے ہمیشہ ہی فائدہ ہو تا رہا ہے۔ملک کی حفاظت و بقاء کیلئے تیار ہو جاؤ دوسرا ذریعہ جو ہے وہ موقع کے لئے تیار رہنے کا ہے۔ہمیں موقع کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔ہماری جماعت کو عزم کر لینا چاہئے کہ اگر خدانخواستہ پاکستان پر کوئی مصیبت آئی تو پھر ہم اس وقت یہ نہیں دیکھیں گے کہ ہماری زمینیں ہیں ، ہمارے