انوارالعلوم (جلد 24) — Page 164
انوار العلوم جلد 24 164 متفرق امور اگر یہ نہیں بولتے تو کوئی ایسا فائدہ نہیں ہوتا۔پھر میں اُن سے منہ پھیر کے عبد الغفار خان کی طرف مخاطب ہوا۔میں نے کہا غفار خاں صاحب! آپ نہیں بولے! کہنے لگے آپ جو بات کر رہے ہیں ٹھیک ہے۔میں نے کہا نہیں آپ کی رائے کے بغیر تو کچھ نہیں بن سکتا۔یہاں اس ملک میں تو آپ کا رسوخ ہے۔کہنے لگے تو پھر میری رائے تو یہی ہے کہ کشمیر نکل گیا تو مسلمان مارے گئے۔باقی رہا کرنے کا سوال سو میں نے کیا کرنا ہے مجھے تو پاکستان گورنمنٹ اپنا باغی سمجھتی ہے تو باغی نے کیا کرنا ہے۔میں نے کہا یہ تو بات نہیں اگر آپ واقع میں خدمت کریں گے تو اگر آپ کو وہ باغی سمجھتی ہے تو نہیں سمجھے گی پھر کہے گی مجھ سے غلطی ہو گئی ہے تو یہ تو اُس وقت تک کی بات ہے ناجب تک آپ کچھ کرتے نہیں۔اگر آپ نیک کام کریں گے پاکستان کو اس سے فائدہ پہنچے گا تو سارے آپ کو سر پر اٹھائیں گے۔کہنے لگے نہیں آپ کو نہیں پتہ جو میرے ساتھ انہوں نے کیا ہے۔میں نے خود تجویز کی جس وقت یہ اختلاف ہوا تو میں نے کہا کہ میں عبد اللہ کو پکڑ کر لا سکتا ہوں اور اُس کو ٹھیک کر سکتا ہوں۔میں کنگھم صاحب سے ملا اور کہا کہ قائد اعظم سے یہ بات کرو تو انہوں نے اس کے بعد مجھے یہ جواب دیا کہ ابھی کچھ ضرورت نہیں ہے جب ہو گا پھر دیکھا جائے گا اور پھر میرے پیچھے ہر وقت پولیس لگی ہوئی ہے اور مجھے ذلیل کیا جاتا ہے اور خراب کیا جاتا ہے مجھے کیا ضرورت ہے۔میں نے کہا خان صاحب ! آپ نے یہ تو مانا ہے کہ اگر لڑائی ہو گئی اور کشمیر ہاتھ میں نہ ہوا تو پاکستان کے لئے مشکل ہے۔میں نے کہا آپ کو پتہ ہے پاکستان بالکل چھوٹی گہرائی کا ملک ہے جو لمبا چلا گیا ہے اور حملہ ہمیشہ گہرائی پر ہوا کرتا ہے۔ہماری گہرائی بعض جگہ پر صرف چالیس پچاس میل ہے۔چالیس پچاس میل فوج ایک دن دو دن میں بھی نکل جاتی ہے۔اگر ریتی کے پاس، روہڑی کے پاس ان علاقوں میں ہندوستانی فوجیں داخل ہوں تو پچاس ساٹھ میل میں وہ جا کے دریا کو اور ریل کو کاٹ دیتی ہیں پھر کراچی اِدھر رہ جاتا ہے پنجاب اُدھر رہ جاتا ہے دونوں طرف سے کٹ جاتے ہیں۔سپاہی ایک طرف کھڑا ہوا ہے دماغ ایک طرف پڑا ہوا ہے، روپیہ ایک جگہ پر پڑا ہوا ہے، ہتھیار ایک جگہ پر پڑے ہوئے ہیں سب کام ختم ہو جاتے ہیں۔کہنے لگے ہاں