انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 163

163 انوار العلوم جلد 24 ڈاکٹر خان کے پاس آدمی بھیجا۔میں نے سمجھا یہ تو اُس سے چھوٹا ہے اس کو بعد میں کہنے میں کوئی حرج نہیں۔اُس کو کہلا کے بھیجا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں اور غفار خاں نے بھی کہا ہے کہ جس وقت چاہیں میں آجاؤں گا تو آپ بتائیے آپ اگر آسکیں تو کوئی وقت مقرر کر دیں لیکن پتہ لگا کہ ڈاکٹر خان ذرا زیادہ ہو شیار آدمی ہے۔وہ سن کے کہنے لگا میں سمجھتا تھا کہ اصل بات تو یہ ہے کہ اپنی وزارت کی وجہ سے وہ سمجھتا ہے میری ہتک ہے مگر عذر اس نے یہ کیا کہ کہا) دیکھئے درد صاحب! میں تو خود شائق ہوں، ملنے کا شوقین ہوں پر آپ جانتے ہیں پٹھانی روح جو ہوتی ہے ہمارے کچھ قواعد ہیں اُن کے خلاف ہو جائے تو قوم میں میری تو ناک کٹ جائے گی۔اب میں اُن کے پاس جاؤں گا تو وہ میری مہمان نوازی میں کچھ قہوہ میرے آگے رکھ دینگے۔میری ساری قوم کہے گی بے شرم ! مہمان وہ تیرے تھے تو قہوہ تم اُن کے گھر پی کے آئے اس لئے میرے لئے مجبوری ہے میری ذلت ہو جاتی ہے اور اگر وہ تکلیف اٹھا کے یہاں آجائیں اور میں قہوہ کی اُن کے آگے پیالی رکھوں تو پھر میں قوم سے آکے کہونگا میں نے مہمان کی عزت کی اور اُس کو قہوہ پلایا۔خیر در دصاحب تو مایوس ہو گئے میں نے کہا کوئی حرج نہیں میں نے کام کرنا ہے کوئی بات نہیں میں چلا جاؤنگا چنانچہ میں نے کہا کہ اب غفار کی دقت ہے کہ وہ بھی آجائے گا کہ نہیں کیونکہ وہ تو اب اصل لیڈر اپنے آپ کو سمجھتا تھا مگر اس معاملہ میں وہ خان سے زیادہ اچھا ثابت ہوا۔اُس نے کہا کوئی پروا نہیں۔آجکل میری لڑائی ہے بھائی سے۔مگر میں آجاؤں گا۔چنانچہ موٹر ہم نے بھیجا وہ کوئی پندرہ میل پرے پر تھا وہاں سے وہ آگیا۔میں ادھر سے چلا گیا۔کوئی چھ سات میل پر ڈاکٹر خان کی کو ٹھی تھی وہاں پہنچے۔دونوں بھائی اور میں بیٹھ گئے۔میں نے اُن کے آگے یہ سوال رکھا کہ خان صاحب! آپ بتائیے۔ڈاکٹر خان کو مخاطب کر کے میں نے کہا آپ یہ بتائیے کہ پاکستان پر جو یہ مصیبت آئی ہوئی ہے کشمیر کی وجہ سے ہے کیا اب کشمیر اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جائے تو پاکستان بیچ سکتا ہے ؟ کہنے لگے نہیں۔میں نے کہا تو پھر ہمیں کچھ کرنا چاہئے۔ڈاکٹر خان نے کہا ٹھیک ہے ہمیں کچھ کرنا چاہئے مگر وہ جو تھے عبد الغفار خان وہ چپ رہے۔میں نے پھر سمجھا کہ اصل کنجی تو ان کے پاس ہے