انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 161

انوار العلوم جلد 24 161 ایک لاکھ روپیہ لگا دیا۔وہ کہنے لگا تاجر سے میں ملا تو اُس نے کہا ہمیں پانچ لاکھ کا نفع ہوا ہے۔اُس نے لاکھ لگایا پر فائدہ ہی رہا۔تو اب بھلا جب ملک کی یہ منٹیلٹی (MENTALITY) ہو، یہ دماغ ہو اس کا کہ وہ ٹیکسوں سے بچنا چا ہے۔ریل کے کرائے بچائیں گے اور قسما قسم کی کوششیں کریں گے۔راشن کارڈ جھوٹے بنائیں گے غرض جس طرح بھی ہو سکے حکومت کو نقصان پہنچائیں گے اور پھر حکومت پر اعتراض کریں گے۔یہ چیز ایسی ہے جس سے پاکستان کو بڑا سخت نقصان پہنچ رہا ہے ہمیں اس کا مقابلہ کرنا چاہئے۔پھر افغانستان نے بھی اپنا معاہدہ جو انگریزی زمانہ میں تھا سب توڑ ڈالا ہے اب خطرہ ہے کہ نئے سرے سے معاہدہ میں وہ نئی نئی شر طیں لگائیں گے کہ یہ ملک ہم کو دے دو، یہ علاقہ دے دو۔انہوں نے دیکھا کہ ہندوستان کے ساتھ آجکل ان کا کچھ بگاڑ ہو رہا ہے تو انہوں نے سمجھا کہ ہمارا بیچ میں فائدہ ہے۔چلتے چلتے ہم بھی اس جگہ سے فائدہ اٹھالیں۔یہ ایک اور مصیبت ہمارے ملک کے لئے پیدا ہو گئی ہے۔ادھر ہندوستان نے اس خبر سے جو پتہ نہیں ملے گا کہ کچھ نہیں ملے گا وہ پہلے ہی پہل ابھی ملا ہے نہیں اور ہندوستان میں مظاہرے شروع ہو گئے ہیں پاکستان کے خلاف کہ امریکہ سے انہوں نے مدد لینی ہے اور اعلان یہ ہو رہا ہے کہ تین کروڑ کی ابھی تازہ مدد انہوں نے اسی پندرہ دن کے اندر لی ہے۔تو آپ تین کروڑ لے کے بھی ان کو کوئی حرج نہیں ہوا لیکن امریکہ کے وعدے پر کہ ان کو مدد ملتی ہے وہاں جلسے ہو رہے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف جوش پیدا کیا جارہا ہے۔نتیجہ یہ ہو گا کہ یا تو جوش میں پاکستان سے لڑائی کر بیٹھیں گے اور یا پھر وہاں کے مسلمانوں کو لُوٹنا شروع کر دینگے۔وہاں کے مسلمانوں کی حالت نہایت خطرناک ہے لوگ جوش میں آتے ہیں تو کوئی پوچھتا نہیں۔ابھی وہاں کیس ہوا اللہ آباد میں۔ایک ہندو اخبار نے نہایت گندی گالیاں رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم کو دیں اور جب اس کے اوپر مسلمانوں نے مظاہرہ کیا اور جلوس نکالا تو اُن کو پکڑ کے جیل خانہ میں ڈال دیا گیا۔وہ گالیاں دینے والے سب آزاد پھر رہے ہیں۔تو اس قسم کے حالات جو مسلمانوں پر گزر رہے ہیں وہاں۔ان کے لحاظ سے ڈر پیدا ہوتا ہے کہ یہ حالات جو ہیں یہ کسی وقت تصادم کا