انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xix of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page xix

www۔ix انوار العلوم جلد 24 کو تکلیف اٹھا کر رائج نہ کریں گے اُس وقت تک ہماری اقتصادی حالت سدھر نہیں سکتی۔حضور نے آج سے 60 سال قبل قوم کی نبض پر ہاتھ رکھ کر علاج تشخیص کر دیا تھا مگر ہماری قوم کا غیر قوموں کی مصنوعات پر انحصار بڑھتا چلا گیا اور ہم اپنی ملکی مصنوعات کو کمتر سمجھنے لگے اور آج ہماری اقتصادی حالت بد حالی کا شکار ہے۔کمزوری کا ایک اور سبب بیان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔”سب سے بڑا سبب کمزوری کا وسیع پیمانے پر بری باتوں کی اشاعت اور ہر نقص اور کمزوری کا الزام حکومت کو دینے کی عادت ہے۔اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اگر زید چوری کرے تو کہو کہ زید نے چوری کی بلکہ سرعام ایسا کہنے پر بھی اسلام پابندیاں لگاتا ہے۔مگر ہماری یہ حالت ہے کہ اگر ایک شخص رشوت لیتا ہے تو بد نام پورے ملک کو کیا جاتا ہے۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب نوجوانوں کے کانوں میں بار بار یہ پڑتا ہے کہ فلاں وزیر بھی بے ایمان ہے ، فلاں افسر بھی بے ایمان ہے تو وہ کہتا ہے کہ اگر باقی سب ایسا کرتے ہیں تو میں کیوں نہ ایسا کروں چنانچہ وہ بھی انہی عیوب میں مبتلا ہو جاتا ہے اور اس طرح قومی اخلاق تباہ ہو رہے ہیں۔" حضور نے یہ تلخ حقائق بیان کرنے کے بعد جماعت احمدیہ کو اس کے فرائض کی طرف توجہ دلائی۔چنانچہ فرمایا:۔یہ تمام امور بتاتے ہیں کہ مسلمان اس وقت ایک نہایت خطرناک دور میں سے گزر رہے ہیں ایسا خطر ناک کہ اس کا احساس کر کے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں لیکن ان امور کو حل کرنا بظاہر ہمارے اختیار میں نہیں جن امور کو ہم حل نہیں کر سکتے ان کے لئے دعا کا خانہ موجود ہے۔اس لئے ہر احمدی سے میں یہ امید کرتا ہوں کہ وہ اسلامی ممالک کے ان پیچیدہ مسائل کے لئے بالعموم اور پاکستان کی مشکلات کے لئے بالخصوص دعائیں کرے تا اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان مشکلات کو دور فرمادے۔66