انوارالعلوم (جلد 24) — Page xviii
--------- انوار لعلوم جلد 24 viii ازاں بعد حضور نے بعض ہدایات دینے کے بعد عالم اسلام کی درد ناک صورت حال کا نقشہ کھینچتے ہوئے فرمایا:۔اس وقت عالم اسلام نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے۔گزشتہ تین سو سالوں میں مسلمان بڑی تیزی کے ساتھ نیچے گر رہے تھے لیکن انہیں اپنے اس تنزل کا احساس زیادہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک دوسرے کو گرانے میں بھی لذت محسوس کرتے تھے۔اس کے بعد یہ دور آیا کہ مسلمانوں کو اپنے تنزل اور خستہ حالی کا احساس ہوا اور ترقی کرنے کا جذبہ پیدا ہوا اس جذبے کے تحت انہوں نے جدوجہد شروع بھی کی کچھ دشمن طاقتوں کے اختلاف اور کچھ اپنے اس جذبہ کی وجہ سے مختلف ممالک میں وہ آزاد تو ہو گئے لیکن آزاد ہو جانے کے باوجو د اب تک ان کے باہمی اختلافات دور نہیں ہوئے اور یہ نہایت خطر ناک امر ہے۔اس لحاظ سے یہ دور پہلے دور سے بھی زیادہ خطر ناک ہے کیونکہ پہلے تو انہیں اپنی حالت کا علم نہ تھا اس لئے وہ اصلاح سے غافل تھے لیکن اب اپنی حالت کو محسوس کرنے کے باوجود وہ اپنی اصلاح پر قادر نہیں ہو رہے۔پھر ان کی مشکلات کچھ اس نوعیت کی ہیں کہ ان کو حل کرنے کی جو راہ بھی تجویز کی جائے وہ خطرات سے خالی نہیں۔" حضور نے ان ممالک کے نام گنوائے جن میں مسلمانوں میں اختلافات پنپ رہے ہیں۔جیسے مصر میں نہر سویز کا جھگڑا ہے۔ارض مقدس میں فلسطین کا جھگڑا ہے جس کی بدبخت حکومت کسی وقت بھی اپنی بدنیتی سے اس ارض پاک کے لئے خطرہ پیدا کر سکتی ہے کیونکہ یہود مسلمانوں کا بہت بڑا خطرہ ہے۔اسلامی ممالک میں ان کے مقابلہ کے لئے کوئی یک جہتی موجود حضور نے لیبیا، عراق اور انڈونیشیا جیسی طاقتور اسلامی مملکتوں کی مثال دیگر پاکستان کے اقتصادی مسئلہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تک ہم ملکی مصنوعات کو یا نیم ملکی مصنوعات