انوارالعلوم (جلد 24) — Page 143
143 انوار العلوم جلد 24 بسا نہیں سکے تو ہم غریبوں نے تو تم سے تین گنے چار گنے زیادہ آباد کر لیا ہے لیکن منہ تو ہم بند کر دیتے ہیں ان کا مگر یہ کہ جب شور پڑے اور لوگ زور دینا شروع کریں تو پھر معقولیت بات کی نہیں رہا کرتی پھر تو یہی ہو جاتا ہے کہ جس کا ہاتھ زیادہ زور سے ہے وہی جیت جاتا ہے۔چل سکتا جلسہ سالانہ پر ملاقاتوں کے ایک بات میں کہنا چاہتا ہوں ملاقاتوں کی نسبت۔آج سے بیس پچیس سال پہلے میں نے سلسلہ میں ضروری ہدایات ملاقاتوں کے متعلق کچھ نصیحتیں کی تھیں۔کچھ مدت تک اس پر خوب اچھا عمل ہوا اور ملاقاتیں بڑی اچھی ہو جاتی تھیں اور مفید ہوتی تھیں آہستہ آہستہ وہ اثر جانا شروع ہوا۔کچھ تو یہ وجہ ہوئی کہ جن لوگوں کو نصیحت کی تھی اُن کے علاوہ بہت سارے لوگ آنے شروع ہوئے نئے احمدی۔اُن کو یہ نصیحتیں معلوم نہیں تھیں۔کچھ یہ ہوا کہ وہ جو ان جنہوں نے وہ نصیحتیں سنی تھیں اور اُن کے اندر جوش تھا اُن پر عمل کرنے کا، وہ اب ہو گئے بڑھے۔اب بڑھاپے میں اُن کے اندر وہ جوش نہ رہا اُن پر عمل کرنے کا۔کچھ یہ نقص ہوا کہ جو لوگ اُس وقت منتظم تھے وہ آج نہیں ہیں۔آج دوسرے نوجوان ہیں انہوں نے وہ نصیحتیں نہیں سنی ہوئی۔اور کچھ انسانی ضد اور ہٹ دھرمی ہوتی ہے کہ کئی باتیں تو سالہا سال سے میں منتظمین کو کہتا آتا ہوں پھر بھی وہ اِس کان سنتے ہیں اُس کان سے نکال دیتے ہیں اور پھر وہی کی وہی باتیں ہیں۔پس میں پھر جماعت کے دوستوں کو اس کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس میں اُن کا بھی فائدہ ہے میرا بھی فائدہ ہے اور کئی رنگ کے روحانی فائدے ہیں۔ایک تو میں نے یہ کہا تھا کہ جب جماعتیں ملنے آئیں تو اُن کا کوئی لیڈر ساتھ ہو جو ساروں کو پہچانتا ہو اور وہ ملاتے وقت اُن کا نام بھی بتاتا جائے۔پہلے گاؤں کا نام بتائے پھر اس کے بعد اُس آدمی کا نام بتائے نتیجہ اِس کا یہ تھا کہ اُس زمانہ میں دو تین سال میں ہزاروں ہزار احمدی سے میں واقف ہو گیا تھا۔وہ نام بتاتا تھا میں فوراً پہچان لیتا تھا کہ یہ وہ ہے۔لیکن اب یہ ہوتا ہے کہ بیٹھنے والا صرف اس لئے بیٹھتا ہے کہ میں سامنے ذرا