انوارالعلوم (جلد 24) — Page 136
انوار العلوم جلد 24 136 ایک فیصلہ کر لیں۔ایک نیا نظام میں کرنا چاہتا ہوں۔جیسے تحریک جدید کا نظام تھا اور اب وہ خدا تعالیٰ کے فضل سے مستقل ہو جائے گا اس کا میں آئندہ ذکر کروں گا لیکن اِس طرح میں سمجھتا ہوں کہ ایک نئے نظام کی ہم کو ضرورت ہے۔تحریک جدید کی اشاعت کے وقت میں میں نے جو شرطیں رکھی تھیں علاوہ چندہ کے ان میں وہ شامل تھا لیکن اُس وقت ہم نے خصوصیت کے ساتھ اس کو آگے نہیں کیا تھا اب میں اس کو آگے کرنا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنے ہاتھ سے کچھ کام کر کے علاوہ اس پیشہ کے جو اُس کا ہے کوئی رقم مہینہ میں پیدا کرے۔اگر وہ غریب ہے تو اُس کا کچھ حصہ چندہ میں دے دیوے اگر امیر ہے تو اس کا سارا حصہ دے دے۔مثلاً ایک شخص ڈاکٹر ہے وہ اپنی ڈاکٹری کی کمائی سے جو کچھ دیتا ہے یہ قاعدہ اس پر حاوی نہیں ہو گا بلکہ ڈاکٹری کے علاوہ کوئی ہاتھ کا پیشہ وہ اختیار کر کے اس کی آمدن پیدا کرے۔جیسے گاندھی جی نے مثلاً یہ کیا تھا کہ چرخہ ایجاد کیا وہ آپ چرخہ کا تا کرتے تھے اور اس طرح انہوں نے سب کو تحریک کر دی کہ چرخہ کا تو۔اور چرخہ کات کے جو میرے پاس لائے میں اصل کانگرس کا چندہ اُس شوت کو سمجھو نگا جو تم کات کے لاتے ہو۔ابھی ہم چرخہ کاتنے کی شرط نہیں کرتے لیکن ہم کہتے ہیں کہ کوئی کام کر لو۔مثلاً ایک لکھا پڑھا آدمی ہے وہ یہی کرلے کہ کسی دن جاکے محلے میں بیٹھ جائے اور کہے پیسہ پیسہ میں خط کسی نے لکھوانا ہے تو پیسہ پیسہ مجھے دیتے جاؤ اور خط لکھوالو وہی پیسے جمع کئے اور کہا جی ! علاوہ میرے چندہ کی آمدن کے یہ میرے ہاتھ کی کمائی کے ہیں۔لیا اور نگزیب کے متعلق مشہور ہے اسی طرح اور کئی بادشاہوں کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ہاتھ سے قرآن لکھ کے بیچا کرتے تھے اور ہمارے اچھے اچھے پڑھے لکھے عالم فاضل جاہل جو ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اور نگ زیب اُسکی روٹی کھاتا تھا حالانکہ اس کی تصویریں دیکھتے ہیں کہ دو دو تین لاکھ کا ہار اُس نے پہنا ہوا ہے اگر وہ اسکی روٹی کھاتا تھا تو ہار کیوں یہ خزانے سے لیتا تھا۔جو شخص روٹی کھانی حرام سمجھتا تھا خزانے کی وہ ہار اور کپڑے کہاں سے لیتا تھا۔ریشمی کپڑے بھی پہنے ہوتے ہیں، اعلیٰ درجہ کے قیمتی گھوڑے بھی ہیں اور