انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 133

انوار العلوم جلد 24 133 پس وہ پڑھتی ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے خوب ترقی کر رہی ہیں۔لیکن باہر کی جماعتوں میں یہ حال نہیں۔اور سب سے بڑی خرابی یہ جو کالج کے کھلنے کے بعد ہم کو معلوم ہوئی کہ بعض نہایت مخلص گھرانے جن کی تیسری پشت احمدیت میں جارہی ہے اُن کی بیٹیاں یہاں پڑھنے کے لئے آئیں اور سورہ فاتحہ بھی نہیں پڑھ سکیں۔نہ اُن کو نماز آتی تھی نہ اُن کو قرآن آتا تھا نہ عربی کا کوئی تلفظ آتا تھا۔حیرت ہو گئی کہ خالی ربوہ نے کیا کر لینا ہے یا خالی قادیان نے کیا کر لینا ہے۔جماعت میں جب تک ہر جگہ پر تعلیم نہیں پائی جاتی، جب تک ساری جماعت کی عورتیں جو ہیں وہ دین سے واقف نہیں ہوتیں تو ان قادیان یار بوہ کی تعلیم یافتہ عورتوں سے بن کیا سکتا ہے۔تو میں نے اس حالت کو دیکھ کر یہ ارادہ کیا ہوا تھا کہ اس جلسہ پر بلکہ میرا ایک یہ بھی محرک تھا کہ میں عورتوں میں تحریک کروں۔ایک چندہ اور ایک یہ کہ تم باہر کی بھی اصلاح کی کوشش کرو اور یہ کام بغیر ایک سکیم بنانے کے نہیں ہو سکتا۔یہاں تو جو چیز ہمارے سامنے ہوتی ہے ہم اُسکی نگرانی کر لیتے ہیں کچھ یہ ہے کہ میرے وعظوں سے، خطبوں سے، ارد گرد کے محلہ کی دوسری لڑکیوں کو دیکھ کر وہ تعلیم پارہی ہیں۔کچھ ہم اُن کی اس طرح بھی امداد کرتے ہیں کہ لڑکیاں جو ہیں اُن کی فیسیں معاف ہو رہی ہیں، اُن کو کتابیں مل رہی ہیں۔اگر وہ درخواست امداد کی دیویں اپنی پڑھائی وغیرہ کے لئے۔تو جہاں تک مجھ سے ہو سکے جو فنڈ میرے ہاتھ میں ہوتا ہے میں اُس سے کوشش کرتا ہوں کہ لڑکیوں کو امداد ملتی چلی جائے اور اُن کا اسطرف میلان زیادہ ہو تا چلا جاتا ہے اور رغبت زیادہ ہوتی جاتی ہے باہر یہ بات نہیں۔تو باہر تعلیم کو رائج کرنے کے لئے تین چار ترکیبیں کرنی پڑیں گی۔پہلے تو یہ کہ جو مرد ہیں پہلا قدم مردوں کے لئے اٹھانا ضروری ہوتا ہے وہ اس کام میں لجنہ کے ساتھ مل کر ایسا انتظام کریں کہ ہر لڑکی جو ہے وہ پڑھی ہوئی ہو۔ہر جگہ کی جماعتیں اس کا انتظام کریں کہ لڑکیوں کی تعلیم کی طرف توجہ کی جائے۔تعلیم سے کیا مراد ہے اور اس کے لئے یہ مد نظر رکھا جائے کہ تعلیم کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ با قاعدہ مدرسی تعلیم اُن کو آتی ہو