انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 132

انوار العلوم جلد 24 132 قادیان میں کئی دفعہ میں نے عورتوں کی تعلیم کو سو فیصدی تک پہنچا دیا تھا یعنی سو کی سو عورت پڑھی ہوئی تھی لیکن مرد کبھی بھی اسی فیصدی سے اوپر نہیں جاسکے۔زیادہ سے زیادہ وہ اسی تک گئے ہیں پھر گر گئے ہیں۔اور عور تیں کئی دفعہ سو تک پہنچیں پھر اس میں گر گئیں کہ باہر سے اور عور تیں آگئیں۔وہاں تو ہجرت ہوتی تھی یہاں بھی ہے تو باہر سے اور عور تیں آگئیں پھر سو نہ رہا۔پھر کوشش کی پھر سو کر لیا پھر نیچے گریں۔بہر حال مر دوں سے ہیں فیصدی وہ زیادہ تعلیم یافتہ رہی تھیں حالانکہ پاکستان میں عورتوں کی تعلیم مردوں سے نصف سے بھی کم ہے یعنی اگر مرد پندرہ فیصدی تعلیم یافتہ ہیں تو عورت ساڑھے سات فیصدی تک تعلیم یافتہ ہے۔تور بوہ میں بھی یہی خدا تعالیٰ کے فضل سے حال ہے یہاں بھی عورتیں تعلیم کی طرف نمایاں راغب ہیں یعنی ایک بھی لڑکی ربوہ میں ایسی نہیں ملتی جو پڑھ نہ رہی ہو لیکن بیسیوں لڑکے ایسے مل جاتے ہیں جو نہیں پڑھ رہے اور اگر انہیں تعلیم کی طرف توجہ دلائی جائے تو ماں باپ لڑتے ہیں کہ ہمارے لڑکے کام کریں یا پڑھیں۔ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے ایک ملک کے کسی شخص سے متعلق مشہور ہے کہ وہ دھوپ میں بیٹھا ہوا تھا کہ پاس سے ایک شخص گزرا اور اُس نے کہا میاں! دھوپ میں کیوں بیٹھے ہو ؟ پاس ہی سایہ ہے وہاں بیٹھ رہو۔وہ کہنے لگا اگر میں سایہ میں بیٹھ جاؤں تو مجھے کیا دو گے ؟ یہی ان لوگوں کا حال ہے۔ہم کہتے ہیں پڑھو آخر تمہارے لئے ہی میں نے سکول جاری کئے ہیں ، استاد مقرر کئے ہیں اور ہر قسم کی سہولتیں ہمیں حاصل ہیں اور ماں باپ کہتے ہیں کہ یہ لڑکے ہمیں پڑھ کر کیا دیں گے ہم ان سے کام نہ لیں۔چنانچہ ربوہ میں بیسیوں ایسے لڑکے مل جائیں گے جو ان پڑھ ہوں گے مگر کوئی لڑکی ایسی نہیں ملے گی جو پڑھتی نہ ہو بلکہ اب یہ ایک معمہ بن گیا ہے کہ جن گھروں میں عام طور پر کام کاج کے لئے لڑکیاں رکھی جاتی ہیں انہیں اب کام کروانے کے لئے کوئی لڑکی نہیں ملتی کیونکہ غریب سے غریب لڑکیاں بھی پڑھتی ہیں اور پھر وہ معمولی پڑھائی پر خوش نہیں ہوتیں بلکہ اُن کا اصرار ہوتا ہے کہ ہم نے انٹرنس تک پڑھنا ہے اور پھر کالج میں داخل ہونا ہے۔