انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 127 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 127

انوار العلوم جلد 24 127 سمجھتا تھا کہ خبر نہیں بناوٹ سے کھانس رہے ہیں۔تو اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو دیکھتے ہوئے میں نے جرات کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ مدد کرتا آیا ہے شاید اُس کا فضل اب بھی جوش میں آجائے اور اب بھی اتنے دور سے آنے والے لوگ اور اتنی امیدوں کے ساتھ اور مایوسیوں کے بعد آنے والے لوگ اپنی اُمنگیں اور اپنے ارادے اور اپنی خواہشیں پورے ہوئے بغیر نہ چلے جائیں۔“ اس کے بعد حضور نے بعض جماعتوں کی تاریں پڑھ کر سنائیں جن میں جلسہ سالانہ کی مبارکباد اور درخواست دعا تھی۔پھر فرمایا:- متفرق امور ”اس کے بعد میں اپنی آج کی تقریر شروع کرتا ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ نے خیریت رکھی تو کل انشاء اللہ علمی تقریر جو میں کیا کرتا ہوں وہ کروں گا۔آج متفرق امور کے متعلق میں بعض باتیں کہوں گا۔تین سال سے عورتوں میں میری تقریر احمدی مستورات سے خطاب نہیں ہو رہی۔یہ تیسر اسال جارہا ہے اور باہر سے آنے والی عورتوں کی خواہش ہوتی ہے کہ میں اُن کے سامنے بھی کچھ باتیں کروں کیونکہ عورتوں کے سامنے جو تقریر ہوتی ہے اُس میں عورتوں کی ضرورتوں کو اور اُن کے حقوق کو زیادہ مد نظر رکھا جاتا ہے۔مردوں کی تقریر میں زیادہ تر ایسی باتیں ہوتی ہیں جو اصولی ہوں یا مردوں سے تعلق رکھنے والی ہوں۔پھر اُن کی خواہش ہوتی ہے کہ ایسی باتیں بھی کہی جائیں جو اُن سے خاص تعلق رکھتی ہیں اور اُن کی ضرورتوں کو مد نظر رکھا جائے۔میری نیت اس دفعہ یہی تھی کہ میں دو سال کے وقفہ کے بعد اس دفعہ پھر عورتوں میں تقریر کروں لیکن لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے بڑے اصرار سے یہ خواہش کی کہ ہم سمجھتی ہیں ابھی ایسے خطرات کے دن ہیں کہ ہم اس ذمہ داری کو نہیں اٹھا سکتیں کہ حفاظت کا سامان کر سکیں۔کیونکہ عورتیں برقعوں میں ہوتی ہیں اگر کوئی مسلح شخص برقع میں آجائے تو ہم اُس کی نگرانی نہیں کر سکتیں اِس لئے ہمارا مشورہ یہی ہے اور اصرار کے ساتھ مشورہ ہے کہ آپ اس دفعہ بھی جلسہ سالانہ پر مستورات میں تقریر نہ کریں۔اُن کے