انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xvi of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page xvi

انوار العلوم جلد 24 vi ( 3 ) اور اگر یہ نہیں کرنا اور واقع میں یہ ایک خطر ناک بات ہے تو پھر ہم تمام مسلمانوں سے یہ اپیل کریں گے کہ وہ احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کی بجائے مولوی صاحبان کے دل میں تقویٰ اور خشیت اللہ کی روح پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اور ان کو یہ سبق سکھائیں کہ عدل اور انصاف اور رواداری کا طریق سب سے بہتر طریق ہے اور اسلام کی خدمت کرنے کا یہی ایک ذریعہ ہے“ ( صفحہ 100 تا104) (2) افتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1953ء 1953ء کا جلسہ سالانہ ایک پُر آشوب دور کے بعد منعقد ہو رہا تھا جس میں 1953ء کی شدید مخالفت کا جماعت احمد یہ اور احباب جماعت کو سامنا کرنا پڑا۔اس مخالفت کی وجہ سے احمدیوں کے دل پہلے سے زیادہ جوان تھے۔اسلام اور احمدیت کو غالب کرنے کا ایک نیا ولولہ اور نیا جوش احباب جماعت میں پیدا ہو چکا تھا اور شمع احمدیت کے پروانے پہلے سے زیادہ جوش و خروش اور ذوق وولولہ کے ساتھ اس جلسہ میں شامل ہونے کے لئے جمع تھے۔اُدھر جماعت احمدیہ کے خلیفہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے اپنے مریدوں اور پیاروں کے دلوں میں پہلے سے بڑھ کر خدمت دین کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے خون کو گرما دینے والے خطابات تھے۔ان میں سے ایک معرکۃ الآراء خطاب جلسہ سالانہ کے پہلے روز 26 / دسمبر 1953ء کا خطاب تھا۔حضور نے اپنے افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ یہ عظیم الشان موقع جو اس وقت ہمیں حاصل ہے اجتماعی رنگ میں دنیا میں کسی اور کو میسر نہیں۔انفرادی طور پر اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے اور اس کے ذکر کو بلند کرنے کی مثالیں تو ہر جگہ مل جاتی ہیں مگر اتنی کثرت کے ساتھ جماعتی رنگ میں محض اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر اور اسلام کے نام کو بلند کرنے کے لئے جمع ہونے کی مثال اور کہیں نہیں مل سکتی پس اس خصوصیت کو قائم رکھو اور اپنے وجودوں کو دنیا سے قطع تعلق کر کے اتناہل کا بنالو کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے تمہیں آسانی کے ساتھ بلند سے بلند تر مقام تک لے جاسکیں اس موقع سے فائدہ اُٹھاؤ۔اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف