انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 119 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 119

انوار العلوم جلد 24 119 افتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1953ء عجیب بات یہ ہے کہ مجھے کھانسی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود گلے سے بلغم نکلتا تھا اور وہ اتنا لمبا ہو تا تھا کہ بالشت بھر باہر لگا ہوا ہوتا تھا اور ابھی گلے میں اس کا تار باقی ہوتا تھا۔پہلے طب کی کتابوں میں میں اس کا ذکر پڑھا کرتا تھا تو سمجھتا تھا کہ اس میں مبالغہ کیا گیا ہے لیکن اب میرے ساتھ یہ واقعہ ہوا تو میں نے سمجھا کہ انہوں نے ٹھیک لکھا تھا۔انسان کا اندرونہ بھی مداری کا تھیلا معلوم ہوتا ہے چھوٹا سا گلا ہے مگر سارا سارا دن بلغم نکلتارہتا تھا اور وہ ختم ہونے میں ہی نہیں آتا تھا۔شاید اللہ تعالیٰ نے گردو غبار کو دور کرنے کے لئے ہی یہ بارش برسائی ہو۔بیشک اس سے کچھ نقصان بھی ہوا اور مہمانوں کو تکلیف بھی ہوئی لیکن شاید اس گرد کو دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بارش نازل کی ہو۔اب کم از کم ایک دو دن اس بارش کا نتیجہ اچھا رہے گا اور گرد نہیں اُڑے گی۔اس موقع پر باہر کے دوستوں کی طرف سے بھی کچھ تاریں آئی ہوئی ہیں۔ایک تو جرمنی کی جماعت کی طرف سے تار آئی ہے۔انہوں نے احباب جماعت کو السّلامُ عَلَيْكُمْ کہا ہے اور دعا کے لئے لکھا ہے۔اسی طرح ملایا کی جماعت کی طرف سے تار آیا ہے۔انہوں نے السّلامُ عَلَيْكُمْ کہا ہے اور ساتھ ہی خوشخبری دی ہے کہ ملائی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ مکمل ہو گیا ہے۔جاکرتا کی جماعت کی طرف سے بھی تار آیا ہے جو انڈونیشیا کا صدر مقام ہے انہوں نے بھی السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہا ہے اور دعا کی درخواست کی ہے اسی طرح جوگ جا کر تا جو انڈونیشیا کا پہلا صدر مقام تھا وہاں کی جماعت کی طرف سے بھی تار آیا ہے انہوں نے بھی السّلامُ عَلَيْكُمْ کہا ہے اور دعا کی درخواست کی ہے۔اسی طرح بو گر جو انڈونیشیا کا ایک شہر ہے وہاں ہمارے انڈو نیشین بھائیوں کا سالانہ اجلاس ہو رہا ہے ان کی طرف سے بھی تار آیا ہے کہ ہمارا اجلاس کامیابی سے ہو رہا ہے۔دوستوں کو ہمارا بھی سلام پہنچا دیا جائے اور دعا کی درخواست کی جائے۔اسی طرح بعض اور جماعتوں کی طرف سے بھی تاریں آئی ہیں اور افراد کی طرف سے بھی آئی ہیں۔زیادہ تر لوگ آخری دعا سے پہلے تاریں دیتے ہیں اب بھی چونکہ افتتاحی دعا ہو گی اس لئے میں نے ان کا سلام پہنچا دیا ہے اور ان کے لئے دعا کی بھی تحریک کر دی ہے۔