انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 120 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 120

انوار العلوم جلد 24 120 افتاحی تقریر جلسہ سالانہ 1953ء اس کے بعد میں دعا کروں گا۔دوستوں کو سب سے پہلے یہ دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے یہاں آنے کو ان کے اخلاص اور ایمان کی ترقی کا موجب بنائے اور وہ خدمت اسلام کے جن جذبات کو لے کر یہاں آئے ہیں وہ ڈھیلے نہ ہوں اور ان میں سستی اور غفلت پیدانہ ہو تا کہ وہ اس عظیم الشان موقع سے فائدہ اٹھانے سے محروم نہ رہ جائیں جو سینکڑوں سال کے بعد خدا تعالیٰ نے اُن کی ترقی کے لئے پیدا کیا ہے۔خصوصاً تبلیغ اسلام کے اس عظیم الشان کام کے لئے دعائیں کریں جو غیر ممالک میں ہو رہا ہے کیونکہ دنیا میں چاروں طرف اسلام پر یورش ہو رہی ہے اور اسلام کے مورچہ پر صرف چند احمدی مبلغ کھڑے ہیں۔چاروں طرف سے اُن کی مخالفتیں ہو رہی ہیں۔ان سے دشمنیاں کی جارہی ہیں اور ان کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔آپ لوگ ایسے ہی ہیں جیسے فوج کے لئے اسلحہ اور بارود تیار کرنے والا کار خانہ ہوتا ہے۔ان کے لئے سامان خورونوش بھیجنا اور ان کے لئے لٹریچر مہیا کرنا آپ لوگوں کا فرض ہے اگر آپ لوگوں کی طرف سے اس میں کو تاہی ہو اور انہیں وہ سامان نہ پہنچے جس کی انہیں ضرورت ہے تو ان کی زندگیاں بالکل بیکار ہو کر رہ جائیں گی۔مدت کی بات ہے جب لڑکی اور بلقان میں جنگ ہوئی اور یورپین لوگوں نے بلقان کی رہاستوں کو بھڑکا کر ترکی سے لڑوا دیا اور ترکی کو بہت بڑی شکست ہوئی اور کئی علاقے اس کے ہاتھ سے نکل گئے تو اس زمانہ میں میں ولایت سے ایک اخبار ”ڈیلی نیوز “ منگوایا کرتا تھا۔”ڈیلی نیوز“ کے اپنے نمائندے جنگ میں تھے اور وہ اسے وہاں کے حالات با قاعدہ بھجواتے رہتے تھے۔ڈیلی نیوز“ کے نگران اور ذمہ دار کارکن مسٹر لائڈ جارج تھے جو انگلستان کے وزیر اعظم تھے۔اس اخبار میں جنگ کی تصویریں بھی چھپتی تھیں اور وہاں کے حالات بھی شائع ہوا کرتے تھے۔ایک دفعہ اس اخبار میں سالونیکا کی جنگ کے حالات شائع ہوئے جو ڈیلی نیوز“ کے اپنے نمائندہ نے بھجوائے تھے۔وہ نمائندہ ان واقعات سے بڑا متاثر معلوم ہوتا تھا۔اس نے لکھا کہ میں نے اپنی زندگی میں اتنا درد ناک نظارہ کبھی نہیں دیکھا تھا پھر اس نے لکھا کہ ترک سپاہی اپنے ملک کے لئے