انوارالعلوم (جلد 24) — Page 98
انوار العلوم جلد 24 98 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب ان کے رفقاء کار علماء کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ یہی ثابت کر دیں کہ احمدی پانچ فیصدی ملازمتوں پر قابض ہیں۔چلو ہم اس سے اتر کر مولانا کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ثابت کر دیں کہ احمدی ایک فیصدی ملازمتوں پر قابض ہیں کسی ادارے میں وہ کسی وجہ سے زیادہ آگئے ہیں اور کسی ادارے میں وہ بالکل نہیں ہیں یا نہ ہونے کے برابر ہیں۔دیکھنا تو مجموعی تعداد کو چاہئے اور ہم دعویٰ سے کہتے ہیں کہ مجموعی تعداد کے لحاظ سے احمدیوں کی تعداد ہر گز اتنی زیادہ نہیں جو قابلِ اعتراض ہو یا ہر گز احمدی قابلِ اعتراض ذرائع سے ملازمتوں میں نہیں آئے۔مولانا مودودی کے مزعومہ مولانا کے مزعومہ مسلم اکابر اور علماء تو اتنا مسلم اکابر اور علماء کے جھوٹ جھوٹ بولتے رہے ہیں کہ فرقان فورس جو احمدیوں نے کشمیر کی لڑائی میں شامل ہونے کے لئے بنائی تھی اس کے متعلق پبلک میں اور اخباروں کے ذریعے سے وہ یہ اعلان کرتے رہے ہیں کہ وہ کروڑوں روپیہ کا سامانِ جنگ چرا کر لے گئی ہے چنانچہ اخبار ”آزاد“ (11 ستمبر 1952ء صفحہ 6) اور رسالہ ”نمک حراموں کے کارنامے میں لکھا گیا کہ مکمل فوجی وردیاں ادنیٰ سپاہی سے لے کر اعلیٰ افسروں تک کی چھ سو، تھری ناٹ تھری کی رائفلیں 599، مشین گن 20، مارٹر بمبز 226، گولیاں (21110) اکیس ہزار ایک سو دس، چھتیں سائز کے بہتر گرنیڈ بمب اور اس کے علاوہ گولی بارود، دستی بمب، سنگینیں اور بہت سا دوسرا نہایت قیمتی اور اہم سامان مثلاً وائرلیس سیٹ بمعہ چارجنگ انجن چارجنگ سیٹ اور بیٹری وغیرہ نیز بے شمار وردیاں اور دیگر سامان جو کروڑوں روپے کی مالیت کا ہوتا ہے یہ ہضم کئے بیٹھے ہیں“۔حالا نکہ جو سامانِ جنگ چرایا جانا بیان کیا جاتا ہے اس کا چوتھا حصہ بھی کبھی احمد یہ کمپنی (یعنی فرقان بٹالین) کو نہیں دیا گیا اور پھر احمدیوں کے پاس فوجی افسروں کی تحریر موجو د ہے کہ سارا سامانِ جنگ جو ہم نے ان کو دیا تھا واپس لے لیا ہے۔چنانچہ اس رسید کے الفاظ یہ ہیں:-