انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 85

انوار العلوم جلد 24 85 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی اندرون ملک کے امن کا ذمہ لے تو گور نمنٹ برطانیہ اس کو سالانہ مالی امداد دیا کرے گی۔اس سے تین شبے پیدا ہوتے ہیں جن کے ازالہ کی طرف جناب کو فوراہوم گور نمنٹ کو توجہ دلانی چاہئے۔اول۔یہ سکیم وزیر نو آبادی نے تیار کی ہے جس کا آزاد ممالک سے کوئی تعلق نہیں۔(2) فارن تعلقات کا کسی حکومت کے سپر د کر دینا آزادی کے صریح منافی ہے۔(3) اندرونِ ملک میں امن کے قیام کی شرط آزادی کے مفہوم کو اور بھی باطل کر دیتی ہے۔یہ تو گورنمنٹ کے اصلی کاموں میں سے ہے۔اس شرط کے سوائے اس کے اور کوئی معنے نہیں ہو سکتے کہ اگر کسی وقت ملک میں فساد ہو گا تو برطانیہ کی حکومت کا حق ہو گا کہ وہاں کی حکومت کو بدل دے یا وہاں کے انتظام میں دخل دے یا فوجی دخل اندازی کرے اور یقینا اس قسم کی آزادی کوئی آزادی نہیں یہ پوری ماتحتی ہے اور فرق صرف یہ ہے کہ حکومت برطانیہ حجاز پر براہِ راست حکومت نہ کرے گی بلکہ ایک مسلمان سردار کی معرفت حکومت کرے گی اگر حجاز کی حکومت اپنی حفاظت خود نہیں کر سکتی تو اس کو ترکوں کو انہی شرائط پر واپس کر دینا چاہئے جن شرائط پر کہ مسٹر چرچل اسے انگریزی حکومت کے ماتحت رکھنا چاہتے ہیں۔ہم امید کرتے ہیں کہ جناب اس غلط قدم کے اُٹھانے کے خطرناک نتائج پر ہوم گورنمنٹ کو فوراً توجہ دلائیں گے اور اس کے نتائج کو جلد شائع فرمائیں گے “۔141 اسی طرح امام جماعت احمدیہ نے 1921ء میں اپنی ایک تقریر میں ان واقعات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:- ”ہم نے باوجود بے تعلق اور علیحدہ ہونے کے پھر بھی معاہدہ ترکی کے بارہ میں اتحادیوں سے جو غلطیاں ہوئی تھیں ان کے