انوارالعلوم (جلد 24) — Page 77
انوار العلوم جلد 24 77 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی وقت ہم نے ترکوں کا ساتھ دیا۔جب شریف حسین حاکم ہوئے تو گو لوگوں نے ان کی سخت مخالفت کی مگر ہم نے کہا اب فتنہ وفساد کو پھیلانا مناسب نہیں۔جس شخص کو خدا نے حاکم بنا دیا ہے اس کی حکومت کو تسلیم کر لینا چاہئے تاکہ عرب میں نت نئے فسادات کا رونما ہونا بند ہو جائے۔اس کے بعد نجدیوں نے حکومت لے لی تو باوجود اس کے کہ لوگوں نے بہت شور مچایا کہ انہوں نے قبے گرا دیئے اور شعائر کی ہتک کی ہے اور باوجود اس کے کہ ہمارے سب سے بڑے مخالف اہلحدیث ہی ہیں ہم نے سلطان ابن سعود کی تائید کی، صرف اس لئے کہ مکہ مکرمہ میں روز روز کی لڑائیاں پسندیدہ نہیں۔حالانکہ وہاں ہمارے آدمیوں کو دُکھ دیا گیا۔حج کے لئے احمدی گئے تو انہیں مارا پیٹا گیا مگر ہم نے اپنے حقوق کے لئے بھی اس لئے صدائے احتجاج کبھی بلند نہیں کی کہ ہم نہیں چاہتے کہ ان علاقوں میں فساد ہوں۔مجھے یاد ہے مولانا محمد علی صاحب جو ہر جب مکہ مکرمہ کی موتمر سے واپس آئے تو وہ ابنِ سعود سے سخت نالاں تھے۔شملہ میں ایک دعوت کے موقع پر ہم سب اکٹھے ہوئے تو انہوں نے تین گھنٹے اس امر پر بحث جاری کھی۔وہ بار بار میری طرف متوجہ ہوتے اور میں انہیں کہتا مولانا آپ کتنے ہی ان کے ظلم بیان کریں جب ایک شخص کو خدا تعالیٰ نے حجاز کا بادشاہ بنا دیا ہے تو میں یہی کہوں گا کہ ہماری کوششیں اب اس امر پر صرف ہونی چاہئیں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں فساد اور لڑائی نہ ہو اور جو شورش اس وقت جاری ہے وہ دب جائے اور امن قائم ہو جائے تاکہ ان مقدس مقامات کے امن میں کوئی خلل واقع نہ ہو“ 136