انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 70

انوار العلوم جلد 24 70 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی مهدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے “۔133 مودودی صاحب کا بھی یہی عقیدہ ہے۔چنانچہ گو اس مسئلہ کا اُنہوں نے غلط استعمال کیا ہے لیکن اسی مسئلہ کی بناء پر اُنہوں نے کشمیر کی لڑائی میں شمولیت کو ناجائز قرار دیا۔134 ان کی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے یہ نہیں سمجھا کہ جہاد کئی ہیں۔ایک جہاد وہ ہے کہ جب کوئی قوم دین مٹانے کے لئے حملہ کرے تو دین کی حفاظت کے لئے اس سے لڑا جائے۔یہ جہاد کبیر ہے اور ایک جہاد یہ ہے کہ کوئی قوم اپنے ملک کی آزادی کے لئے لڑے یہ جہادِ صغیر ہے۔ایسے جہاد کے متعلق بھی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مَنْ قُتِلَ كُوْنَ مَالِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَ مَنْ قُتِلَ دُونَ دَمِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَ مَنْ قُتِلَ دُوْنَ دِيْنِهِ فَهُوَ شَهِيدٌ وَ مَنْ قُتِلَ دُونَ أَهْلِهِ فَهُوَ شَهَيْدُ 135 یعنی جو شخص اپنے مال یا اپنی جان یا اپنے د یا اپنے اہل کے بچانے کے لئے لڑتا ہوا مارا جائے، وہ شہید ہے۔چونکہ شہید اسی کو کہتے ہیں جو جہاد میں مارا جائے اس لئے ماننا پڑے گا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قسم کی لڑائی کو بھی ایک قسم کا جہاد قرار دیا ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ جہاد کبیر تو سارے مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے اور جہاد صغیر صرف ان لوگوں پر فرض ہوتا ہے جن کے ملک کی آزادی خطرہ میں پڑے۔مودودی صاحب نے یہ نہیں سوچا کہ کشمیر کے متعلق ہندوستان کے ساتھ پاکستان کا کوئی معاہدہ نہیں تھا۔جب پارٹیشن ہوئی ہے اس وقت تینوں اقوام یعنی انگریزوں، ہندوؤں اور مسلمانوں کی مجلس میں یہ فیصلہ ہوا تھا کہ جن علاقوں میں کسی قوم کی اکثریت ہو اور وہ آزادی حاصل کرنے والے ہم مذہب علاقہ کے ساتھ لگتے ہوں تو وہ علاقے اپنے ہم مذہبوں کی حکومت میں شامل کئے جائیں گے اور کشمیر کے متعلق خاص طور پر فیصلہ ہوا تھا کہ یہ ملک ہندوستان اور پاکستان سے مشورہ کرنے کے بعد اپنا فیصلہ کرے گا لیکن کشمیر نے ایسا نہیں کیا اور اس عام قانون کے خلاف کہ ساتھ ملتی ہوئی مذہبی اکثریت کو اپنی مذہبی اکثریت والی حکومت میں شامل ہونے کا حق ہو گا توڑ دیا اور بغیر پاکستان سے مشورہ کرنے کے ہندوستان سے الحاق کا اعلان کر دیا اور