انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 71

انوار العلوم جلد 24 71 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی ہندوستان نے اس کو تسلیم کر لیا۔پس کشمیر کے متعلق کوئی معاہدہ نہ تھا بلکہ جو اقوام ثلاثہ کا فیصلہ تھا اس کو ہندوستان نے توڑ دیا۔پھر لڑائی کشمیر میں ہو رہی تھی ہندوستان میں نہیں ہو رہی تھی اور کشمیر کوئی معاہد حکومت نہیں تھی۔یہی وجہ ہے کہ باوجود اس کے کہ ہندوستان کے بعض حصوں پر حملہ کر کے کشمیر کے مسئلہ کو حل کیا جاسکتا تھا۔پاکستان نے اسلامی قانون اور بین الا قوامی قانون کو مد نظر رکھتے ہوئے ہندوستان پر حملہ نہیں کیا۔پس بجائے اس کے کہ مولانا مودودی پاکستان کی تعریف کرتے کہ اس نے بہت حوصلہ سے کام لیا ہے اور قانونِ اسلام کی پابندی اور قانون بین الا قوامی کی پابندی میں اپنے فوائد کو نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے اُلٹا پاکستان پر حملہ اور جنگ کشمیر کے خلاف اعلان کر دیا لیکن بہر حال جو مسئلہ انہوں نے جنگ کشمیر کے خلاف پیش کیا وہ وہی ہے جس کو بانی سلسلہ احمدیہ نے غیر مسلم اقوام سے لڑنے کے متعلق پیش کیا ہے اگر وہ مسئلہ غلط ہے تو مولانا مودودی نے اس کو کیوں استعمال کیا اور اگر وہ مسئلہ ٹھیک ہے تو مولانا مودودی نے بانی سلسلہ احمدیہ پر کیوں اعتراض کیا؟ صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کی شہادت کی وجہ 12 - ب) باقی رہا یہ کہ ایک اٹیلین انجینئر نے لکھا ہے کہ صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب کو اس لئے شہید کیا گیا کہ وہ جہاد کے خلاف تعلیم دیتے تھے اس سے بھی مراد وہی جہاد کی غلط تعلیم ہے جس کی غلطی کا خود مولانا مودودی صاحب کو اقرار ہے۔اگر وہ تعلیم ٹھیک ہے تو مولانا مودودی صاحب اعلان کر دیں کہ پاکستان میں ان کی اکثریت ہونے پر وہ روس پر اور امریکہ پر اور انگلستان پر اور ہندوستان پر حملہ کر دیں گے۔اگر نہیں تو پھر یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ اس بات کو مانتے ہیں کہ ہر کافر قوم سے ہر وقت لڑائی جائز نہیں بلکہ ان کا فرا قوام سے لڑائی جائز ہے جو اسلام کو مٹانے کے لئے اسلامی ممالک پر حملہ کریں یا سیاسی نفوذ کے لئے کسی اسلامی ملک پر حملہ کریں یا پھر ایسی قوموں کے ساتھ لڑائی جائز ہے کہ وہ خود تو ہم پر حملہ نہ کریں لیکن اُنہوں نے کسی وقت ہمارے بعض حقوق پر قبضہ کر لیا ہو اور اس کے بعد ہماری