انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 58

انوار العلوم جلد 24 58 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جوار کی وہاں ضرورت نہیں ہوتی۔آپ کی تلوار تو اسلام کی سچائیوں کو مشتبہ کر دیتی ہے اور وہ غیر مسلموں کو اسلام کی طرف لانے سے روکتی ہے کیونکہ وہ اسلام کو ایک خونریزی کا سمجھنے لگتے ہیں اور اس کی صلح اور آشتی کی تعلیم آپ کے تیار کردہ غلافوں میں چھپ جاتی ہے۔کاش آپ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے اور اسلام کی صداقت اور اس کی خوبیوں کو روشن اور اُجاگر ہونے دیتے۔مذہب غیر احمدی علماء کا باہم مل کر اسلامی دستور کے اصول مرتب کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے ہیں (9) پھر مودودی صاحب لکھتے ہیں کہ بے شک دوسرے مسلمان بھی گفر بازی کے مرض میں مبتلا ہیں لیکن اس دلیل کی وجہ سے احمدیوں کو کافر قرار دینے سے رُکنا جائز نہیں کیونکہ اگر ذراذرا سے اختلاف پر تکفیر کر دینا غلط ہے تو دین کی بنیادی حقیقتوں سے کھلے کھلے انحراف پر تکفیر نہ کرنا بھی سخت غلطی ہے اور اس کی مزید دلیل وہ یہ دیتے ہیں کہ جب علماء اسلام نے بالا تفاق اسلامی دستور کے اصول مرتب کئے تو ظاہر ہے کہ اُنہوں نے ایک دوسرے کو مسلمان سمجھتے ہوئے ہی یہ کام کیا۔125 مولانا مودودی صاحب کی یہ دلیل ہرگز معقول نہیں۔یہ دلیل تبھی معقول ہو سکتی تھی جب یہ کہا جاتا کہ کفر کے فتوے دینے والے علماء اول درجہ کے جاہل، بے ایمان اور بد دیانت تھے۔اس وجہ سے اب ان کی اولاد ان کی اتباع کرنے کے لئے تیار نہیں اور وہ ان کے فتوؤں کے باوجود آپس میں مل کر بیٹھنے کے لئے تیار رہے۔جب دیو بندیوں کے بزرگوں نے بریلویوں پر کفر صریح کا فتویٰ دیا ہوا ہے، جب بریلویوں نے دیو بندیوں اور اہلحدیث پر گفر صریح کا فتویٰ دیا ہوا ہے ، جب اہلحدیث نے اہلسنت پر گفر صریح کا فتویٰ دیا ہوا ہے ، جب اہلسنت نے اہلحدیث پر کفر صریح کا فتویٰ دیا ہوا ہے ، جب شیعوں نے سنیوں پر اور سنیوں نے شیعوں پر گفر صریح کا فتویٰ دیا ہوا ہے اور جب اسلامی جماعت والوں نے دوسرے فرقوں پر اور دوسرے فرقوں نے اسلامی جماعت پر گفر صریح کا