انوارالعلوم (جلد 24) — Page 57
انوار العلوم جلد 24 57 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی حفاظت دین تعلیم اور تربیت کے ساتھ ہوا کرتی ہے۔جب تک اسلام دلوں میں زندہ ہے دس ہزار نبوت کا جھوٹا مدعی بھی اس ایمان کو متزلزل نہیں کر سکتا اور جب تک سچائی کا اعلان کرنے والے لوگ دُنیا میں موجود ہیں کوئی تلوار، کوئی بندوق، کوئی خنجر اور کوئی شعلہ نار سچائی کا اظہار کرنے والوں کی زبان بندی نہیں کر سکتا۔سچ ماریں کھا کر بھی اُٹھے گا اور سچائی کا اعلان کرنے والے قتل ہوتے ہوئے بھی اپنی بات کو دُہراتے چلے جائیں گے اور جھوٹے مدعیان نبوت خواہ کتنے بھی طاقتور ہوں اور خواہ ان کے مقابلہ میں کوئی تلوار بھی نہ اُٹھے اور کوئی مقابلہ بھی نہ ہو وہ ناکام رہیں گے اور نامراد مریں گے۔مولانا غالباً اپنے لٹریچر کے علاوہ دوسری کتابوں کا مطالعہ کرنے سے بچتے رہتے ہیں۔اگر وہ قرآن کریم کو پڑھتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ حضرت موسیٰ "جب فرعون کے پاس گئے اور فرعون نے ان پر ظلم کرنا چاہا تو فرعون کے ایک درباری نے اس کے سامنے یہ دلیل پیش کی کہ اِنْ تَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُه وَ إِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَابُ - 123 اے میری قوم! اگر موسیٰ جھوٹا ہے تو اس کا جھوٹ خود اسے تباہ کر دے گا اور اگر وہ سچا ہے تو اس کی پیشنگوئیوں کا ایک حصہ تمہارے حق میں پورا ہو کر رہے گا۔اللہ تعالیٰ کبھی بھی حد سے بڑھنے والے اور جھوٹے کو کامیاب نہیں کرتا۔پس تم موسیٰ کو کیوں قتل کرنے کی کوشش کرتے ہو۔اس آیت میں کتنی زبر دست سچائی کو بیان کیا گیا ہے کہ دین خدا کی طرف سے آتا ہے۔دین سیاست نہیں جس کے لئے خدا کی مدد کا سوال پیدا نہ ہو۔دین خدا کا رستہ ہے جس کی حفاظت خدا تعالیٰ خود کرتا ہے۔جھوٹے نبیوں کی طاقت کیا ہے کہ وہ سچ کو مٹا سکیں۔خدا کی تلوار جھوٹے نبیوں کو مارتی ہے۔کیا خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ نہیں کہا کہ کو تَقَولَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ الأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - 24 یعنی اگر یہ شخص ہم پر کوئی افتراء کرتا اور کوئی بات ہماری طرف منسوب کر دیتا جو ہم نے نہیں کہی تو ہم اس کا دایاں بازو پکڑ لیتے اور اس کی رگِ جان کاٹ دیتے۔مولانا جھوٹے نبی کی رگِ جان کاٹنے کے لئے خدا آپ تیار رہتا ہے آپ کی تلوار