انوارالعلوم (جلد 24) — Page 44
انوار العلوم جلد 24 44 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب اسلاف نے یہ فتویٰ دیا کہ احمدیوں کی نماز جنازہ جائز نہیں بلکہ انہیں اپنے مقبروں میں دفن ہونے کی اجازت دینا بھی ناجائز ہے۔تب بانی سلسلہ احمدیہ مجبور ہو گئے کہ فتنے سے بچنے کے لئے ایسے جنازوں میں شرکت سے اپنی جماعت کو روک دیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جماعت احمدیہ نے کچھ عرصہ سے یہ طریق اختیار کیا ہوا ہے کہ وہ کسی غیر احمدی کا بھی جنازہ نہیں پڑھتے لیکن اب بھی ان کا یہ مذہب نہیں ہے کہ غیر احمدیوں کے ساتھ دفن ہونے سے ان کے مُردے خراب ہو جاتے ہیں یا اگر کوئی غیر احمدی مُردہ ان کے عام قبرستان میں دفن ہو جائے تو اس کی لاش کو نکال کر باہر پھینک دینا چاہئے۔قادیان میں بھی غیر احمدی مُردے بانی سلسلہ احمدیہ کے باپ دادا کے دیئے ہوئے قبرستان میں دفن ہوتے تھے اور ربوہ میں بھی احمدیوں نے غیر احمدیوں کے قبرستان کے لئے کچھ جگہ دی ہے۔حالانکہ یہاں کوئی آبادی غیر احمدیوں کی نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ربوہ کی زمین میں پرانے زمانہ سے ارد گرد کے گاؤں کے کچھ لوگ اپنے مردوں کو لا کر دفن کر دیتے تھے۔یہ زمین چونکہ کم ہو گئی جماعت احمدیہ نے ان لوگوں کی خاطر دو کنال زمین اپنا مقبرہ وسیع کرنے کے لئے دے دی۔اسی کے ساتھ ملحق احمدیوں کا اپنا مقبرہ بھی ہے۔مولانا مودودی صاحب بتائیں کہ فساد کس نے کیا؟ جنہوں نے ساتھ دفن ہونے سے بھی انکار کیا یا جنہوں نے دفن ہونے کے لئے اپنی زمینیں دیں اور جو عملاً ان کے ساتھ پرانے مقبروں میں دفن ہو رہے ہیں اور وہیں دفن ہونا چاہتے ہیں۔یہ بھی یاد رکھنے والی بات ہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ کا مذکورہ بالا فتویٰ حال ہی میں ملا ہے اور امام جماعت احمدیہ نے اس کے بارہ میں علم حاصل کر کے آج سے سالہا سال پہلے یہ اعلان کر دیا تھا کہ اگر اس فتویٰ کی مصدقہ تحریر مل گئی تو پھر احمد یہ جماعت کے موجودہ طریق عمل پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔چنانچہ اب جبکہ وہ تحریر مل گئی ہے احمدی جماعت کے علماء بیٹھیں گے اور جہاں تک قیاس کیا جاتا ہے اس بارہ میں جو پہلا طریق عمل ہے اس میں ایک حد تک تبدیلی کی جائے گی۔