انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 554 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 554

انوار العلوم جلد 24 554 سال 1954ء کے اہم واقعات اور مینٹل (ORIENTAL) پبلشنگ کمپنی کو کھڑا کر دیں اور پر لیس جاری ہو جائے تو پھر انشاء اللہ جلدی جلدی اور لٹریچر بھی شائع ہونا شروع ہو جائے گا۔میں نے ایسے لٹریچر نظر رکھ لئے ہیں جن کو فوراً ہی لکھوا کر وسیع کیا جاسکتا ہے۔بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ تنظیم ہو جائے تو یہ عیسائیت پر ایک ایسا حملہ ہو جائے گا جس کو رد کرنے کے لئے دشمن کے لئے مشکل پیش آئے گی۔مثلاً دیکھو میرا قرآن شریف کا دیباچہ شائع ہوا ہے اس کے متعلق متواتر جور پورٹیں آرہی ہیں جرمنی سے، ہالینڈ سے اور دوسرے کئی ممالک سے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے بڑے مصنفوں نے اس کے متعلق لکھا ہے۔بعضوں نے گالیاں بھی دی ہیں اور بعضوں نے کہا ہے کہ عیسائیت کے ساتھ بڑی سختی کی گئی ہے مگر تمام کا خلاصہ یہ آجاتا ہے کہ یہ اسلام کا ایسا حملہ ہے جس کے رڈ کئے بغیر ہم چپ نہیں رہ سکتے۔مگر یہ دیکھ لو کہ آج تو تم بہت زیادہ ہو ( میں نے وہ مثال اسی لئے مدینہ کی دی تھی کہ آج تو تم بہت زیادہ ہو ) جب تم ابھی تھوڑے تھے اور جب قرآن شریف سارا نہیں نکلا تھا صرف پہلا سپارہ شائع ہوا تھا اُس وقت فور من کر سچن کالج لاہور کا پرنسپل اور اس کے دو ساتھی جن میں سے ایک عالمگیر محکمہ ینگ مین کرسچین ایسوسی ایشن (Young Man Christian Association) کا اشاعت کتب کا سیکرٹری تھا اور ایک جنرل سیکرٹری تھا۔یہ تینوں مجھے قادیان ملنے آئے۔باتیں ہوئیں باتیں ہونے کے بعد (وہ لوگ اُس وقت امریکہ جا رہے تھے ) امریکہ چلے گئے۔چند دنوں کے بعد سیلون سے وہاں جماعت نے مجھے ان کا ایک کٹنگ بھجوایا جس میں ذکر تھا کہ سیلون میں فور من کرسچن کالج کا جو پر نسپل تھا اس نے تقریر کی اور اُس نے کہا کہ عیسائیت کے لئے اب وہ زمانہ آگیا ہے کہ اس کو اسلام کے ساتھ آخری جنگ لڑنی پڑے گی اور اس نے کہا یہ احساس عیسائیوں میں عام ہے کہ اب عیسائیت کو ایک آخری جنگ اسلام کے ساتھ لڑنی پڑے گی۔لیکن کسی کا تو یہ احساس ہے کہ یہ مصر میں لڑائی ہو گی، کسی کا یہ احساس ہے کہ کسی اور بڑے مرکز میں ہو گی، یورپ میں ہوگی یا امریکہ میں ہو گی۔مگر میں ایک دورہ سے جو ابھی آیا ہوں میں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اسلام اور عیسائیت کی یہ جنگ کسی اور