انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 533 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 533

انوار العلوم جلد 24 533 سال 1954ء کے اہم واقعات سے زائد حقوق دیں مگر ہمارے ہاں یہ طریق ہے جو ابھی تک بعض احمد یوں میں بھی جاری ہے کہ وہ اس کے حقوق کو تلف کر دیتے ہیں۔آئندہ کے لئے یہ امر یاد رکھو کہ خدا تعالیٰ کی رضا اور خد اتعالیٰ کی محبت وابستہ ہے عورت سے حسن سلوک کے ساتھ اور حسن معیشت کے ساتھ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ خَيْرُ كُمْ خَيْرُ كُمْ لِأَهْلِهِ 1 تم میں سے خدا کے نزدیک بہتر وہی ہے جس کا اپنی بیوی بچوں سے معاملہ بہتر ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں مولوی عبد الکریم صاحب نے ایک دفعہ اپنی بیوی سے کوئی سختی کی تو آپ کو الہام ہوا کہ " یہ طریق اچھا نہیں اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈر عبد الکریم کو " 2 ان کو لیڈر کہہ کر ان کا دل بھی خوش کر دیا اور ان کو عزت کا مقام بھی دے دیا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ تمہارا یہ فعل ہمیں پسند نہیں۔پس یہ چیز ایسی ہے جس کی طرف ہماری جماعت کو خصوصیت کے ساتھ توجہ کرنی چاہیے۔خصوصاً یہ جو مسئلہ ہے کہ اگر کبھی اختلاف ہو جائے تو طلاق بھی دینی پڑتی ہے اور خلع بھی کرانا پڑتا ہے اس کے متعلق تو میں نے دیکھا ہے بعض احمدی ایسے گندے اخلاق دکھاتے ہیں کہ شرم آجاتی ہے حالانکہ انہیں شریعت نے خلع کا حق دیا ہے اگر تم اپنا حق استعمال کرتے ہو اور تمہارے پاس کوئی آتا ہے تو کہتے ہو کیوں مجھے نہیں حق طلاق کا؟ تو جب تم اپنا حق طلاق استعمال کرتے ہو تو عورت اگر خلع کا حق استعمال کرتی ہے تو تمہیں کیا اعتراض ہے۔میری تو سمجھ میں یہ بات آج تک کبھی آئی نہیں کہ جو عورت اس طرح راضی نہیں اس کو گھر میں رکھنا تو سانپ پالنے والی بات ہے۔میں تو کبھی سمجھ نہیں سکا کہ ایک عورت اگر ضلع چاہتی ہے تو مرد کو اس پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔وہ تو اگر ایک دفعہ مانگتی ہے تو یہ دو دفعہ دیوے اس کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے پھر جب وہ بے چاری خلع ما نگتی ہے تو وہ اپنا حق آپ چھوڑ دیتی ہے۔مہر چھوڑ دیتی ہے اور کئی قسم کے حقوق جو شریعت نے اس کے لئے مقرر کئے ہیں سارے ترک کر دیتی ہے پھر کیا وجہ ہے کہ اس کے راستہ میں روک پیدا کی جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لو ایک عورت