انوارالعلوم (جلد 24) — Page 513
انوار العلوم جلد 24 513 سال 1954ء کے اہم واقعات اور پچھلا سرا ایک کا بہت دور تھا اور دوسرے کا اس سے کم تیسری کا نصف میں ختم ہو جاتا تھا۔میں نے چودھری صاحب سے کہا یہ کیا بات ہے؟ انہوں نے کہا یہ شراب خانہ ہے اور یہ شراب خریدنے کے لئے آئے ہوئے ہیں اور یہ جو پہلی قطار ہے اس سے شراب تقسیم ہونی شروع ہو گی یہاں تک کہ آخری آدمی شراب خریدے گا اس کے بعد دوسری قطار کا اگلا آدمی آگے آئے گا اور پھر تیسری کا۔اب شراب جیسی چیز جو نشہ میں انسان کی عقل ماردیتی ہے اس کے وہ خریدار تھے اور شاید کہیں نہ کہیں سے پی کر ہی آئے ہوں گے لیکن اب وہ اپنے گھروں کو شراب لے جارہے تھے۔اُس دن ہفتہ کی شام تھی اور چونکہ ہفتہ کے دن اُن کو تنخواہیں ملتی ہیں، اُس دن بہت زیادہ ہجوم ہوتا ہے تو انہوں نے کہا یہ محض اس وجہ سے آرام سے کھڑے ہیں کہ تا ان کا مقررہ قومی نظام نہ ٹوٹے۔خیر واقعہ میں یہ سنا رہا تھا کہ جب آگ لگی اور لوگ نکلنے لگے تو ان میں سے ایک نے دیکھا کہ اس طرح خطرہ بڑھ گیا ہے تب اُس نے وہی کیو (QUEUE) کی آواز دی۔یہ لفظ اس نے زور سے بولا تو یکدم سارے ہٹ کے ایک دوسرے کے پیچھے کھڑے ہونے شروع ہو گئے۔گویا ایسی عادت پڑی ہوئی تھی کہ وہ بھول ہی گئے کہ آگ لگی ہوئی ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سارے کے سارے آرام سے باہر نکل گئے لیکن ہمارے ہاں یہ تنظیم اتنی کیوں نہیں۔ابھی مجھ سے ایک عزیز نے سوال کیا اور کہا کہ میں ولایت سے آیا ہوں۔میں ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں۔اس کا رنگ کچھ متغیر سا ہوا ہوا تھا شاید اس خیال سے کہ کہیں مجھ سے خفا نہ ہو جائیں۔خیر وہ مجھ سے کہنے لگا خبر نہیں کیا بات ہے کہ ان لوگوں کے اخلاق ہم سے اچھے ہیں۔میں ہنس پڑا اور میں نے کہا میرا اپنا خیال یہی ہے کہ ان کے اخلاق اچھے ہیں۔وہ یہ سمجھتا تھا کہ شاید مولویوں کی طرح یہ بھی خفا ہو جائیں گے کہ تم نے اپنی قوم کے اخلاق کو بُرا کہا ہے حالانکہ جب کچی بات یہی ہے کہ ان کے اخلاق اچھے ہیں تو ہم اس کے سوا کہہ کیا سکتے ہیں۔پس میں نے کہا ہاں ٹھیک ہے میرا اپنا بھی یہی خیال ہے۔پھر اس نے جھجکتے ہوئے مجھ سے پوچھا ایسا کیوں ہے؟ پھر میں نے اس کو سچاسچا جواب دیا کہ یہ شراب کی وجہ سے ہے۔اس نے حیرت سے کہا کیا شراب کی وجہ سے ان کے