انوارالعلوم (جلد 24) — Page 15
انوار العلوم جلد 24 15 مولانا مودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جوار مفسرین اور علماء میں پڑے پایہ کے آدمی سمجھے جاتے ہیں ایسا شخص اپنی کتاب میں صدیوں پہلے لکھ چکا ہے کہ خاتم النبیین میں ”خاتم “ کے معنے مہر کے ہیں۔اسی طرح تفسیر فتح البیان جو در حقیقت علامہ شوکانی کی تفسیر فتح القدیر ہے لیکن نواب صدیق حسن خان صاحب نے اپنے نام سے شائع کروائی ہے اس میں لکھا ہے کہ ”خاتم میں ت کے نیچے زیر بھی بعض قراء توں میں آئی ہے اور بعض قراء توں میں زبر بھی آئی ہے۔زیر کی صورت میں اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ نبیوں کے آخر میں آئے ہیں اور زبر کی صورت میں اس کے یہ معنی ہیں کہ آپ نبیوں کی مہر بن گئے جس سے وہ مُہریں لگاتے تھے اور فخر کرتے تھے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہم میں سے ہیں۔مولانا محمود الحسن صاحب دیوبندی پر نسپل جامعہ دیوبند فرماتے ہیں:۔محمد باپ نہیں کسی کا تمہارے مردوں میں سے لیکن رسول ہے اللہ کا اور مہر سب نبیوں کی اور ہے اللہ سب چیزوں کو جاننے والا “ 18 مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی بانی مدرسہ دیوبند فرماتے ہیں کہ :- جیسے خاتم بفتح التاء کا اثر اور نقش مختوم علیہ میں ہوتا ہے ایسے ہی موصوف بالذات کا اثر موصوف بالعرض میں ہوتا ہے۔حاصل مطلب آیت کریمہ اس صورت میں یہ ہو گا کہ ابوت معروفہ تو رسول اللہ صلعم کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں۔یہ ابوت معنوی امتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت بھی حاصل ہے “۔19 اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ مولانا محمد قاسم صاحب کے نزدیک خاتم کا لفظ بمعنی مُہر استعمال ہوا ہے۔علامہ ابن خلدون بھی فرماتے ہیں کہ صوفیاء ولایت کو اپنے مراتب کے فرق کے لحاظ سے نبوت سے مشابہت دیتے ہیں اور جس کو ولایت میں کمال حاصل ہو اُسے