انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 16

انوار العلوم جلد 24 16 مولانامودودی صاحب کے رسالہ ”قادیانی کا جواب ”خَاتَمُ الولایة کہتے ہیں۔یعنی وہ اس مقام کو پا گیا جس میں ولایت کے سارے کمالات آجاتے ہیں جس طرح خاتم الانبیاء اس مقام کو پاگئے تھے جس میں نبوت کے تمام کمالات آجاتے ہیں “۔20 ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ خاتم النین بمعنے نبیوں کی مہر احمدیوں کے کئے ہوئے معنے نہیں بلکہ شروع زمانہ سے علماء اسلام یہ معنے کرتے آئے ہیں اور اگر یہ معنے گفر ہیں۔اگر ان معنوں کے رُو سے انسان اُمّتِ محمدیہ سے نکل جاتا ہے اگر وہ اسلامی حکومت کے شہری حقوق سے محروم ہو جاتا ہے تو پھر علامہ الوسی، علامہ شوکانی، مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی، مولانا محمود الحسن صاحب استاذ علماء دیو بند ان سب کو اُمت محمدیہ سے نکلا ہوا اور حکومت اسلامی کے شہری حقوق سے محروم قرار دیا جائے گا۔اُمت محمدیہ کے روحانی علماء کا بلند ترین مقام (3-ب) پھر مولانا مودودی صاحب فرماتے ہیں کہ اس تفسیر کا نتیجہ یہ نکلا کہ احمدیوں نے یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد متعد د نبی آسکتے ہیں۔مولانا مودودی صاحب اور ان کے اتباع کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ بات ہم ہی نہیں کہتے۔یہ بات بہت سے گزشتہ صلحاء بھی کہہ چکے ہیں بلکہ خود رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی فرما چکے ہیں۔رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ الْعُلَمَاءُ مَصَابِيحُ الْأَرْضِ خُلَفَاءُ الْأَنْبِيَاءِ وَ وَرَثَتِی وَوَرَثَةُ الْأَنْبِيَاءِ 21 یعنی علماء زمین کے چراغ ہیں نبیوں کے خلفاء ہیں، میرے وارث ہیں اور سب انبیاء کے وارث ہیں۔اسی طرح رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بعض صوفیاء نے یہ حدیث منسوب کی ہے کہ ” عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ“ 22 یعنی میری اُمت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کی طرح ہیں۔ایک دوسری جگہ مجدد الف ثانی صاحب یوں فرماتے ہیں کہ :- کمل تابعان انبیاء علیہم الصلوات والتسليمات بہت