انوارالعلوم (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 660

انوارالعلوم (جلد 24) — Page 440

انوار العلوم جلد 24 440 مجلس خدام الاحمدیہ کے عہدیداران کا کن صفار جب کوئی کر نیل آئے تو اسے سلیوٹ کرنے لگ جائے تو پھر وہ بھی اس عہدہ کے مناسب نہیں ہو گا کیونکہ خدام کے دفتر یا جلسہ میں کرنیل کو سلام کرنے کا سرکاری حکم نہیں ہے۔ہونا یہ چاہئے کہ فوج اور چھاؤنی میں وہ سپاہی یا چپڑاسی سلیوٹ کرے اور خدام کے دفتر میں کر نیل آئے تو چپڑاسی کو سلام کرے جو دیندار چپڑاسی اپنے عہدہ کا وقار قائم رکھ سکے وہ کر نیل کی نسبت امیر بننے کا زیادہ مستحق ہے۔یہ رنگ نظم کا تمہارے اندر آنا چاہئے۔اپنا ووٹ ضائع نہیں کرنا چاہئے اور صحیح طور پر دینا چاہئے۔سکتا ہوں جو انتخاب تم نے کیا ہے وہ میری سمجھ میں نہیں آیا اس لئے میں یہی کہہ کہ تم نے بغیر سوچے سمجھے اپنا ووٹ دے دیا ہے۔سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ 31 اکتوبر کے بعد جو سال شروع ہوتا ہے اس میں مرزا ناصر احمد مجلس خدام الاحمدیہ کے نائب صدر نہیں رہیں گے کیونکہ ان کی عمر زیادہ ہو چکی ہے اور وہ مجلس خدام الاحمدیہ کے ممبر نہیں رہے میں نے انہیں دو سال کے لئے نائب صدر مقرر کیا تھا تا کہ ان کے تجربہ سے فائدہ اٹھایا جائے۔باقی جو انتخاب کیا گیا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہے: (1) مرزا منور احمد صاحب (2) مرزا طاہر احمد صاحب (3) مولوی غلام باری صاحب سیف (4) میر داؤد احمد صاحب (5) چودھری شبیر احمد صاحب (6) قریشی عبد الرشید صاحب 112 109 70 80 63 49 میری سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ ووٹنگ عقل اور سمجھ پر کس طرح مبنی ہے۔اس میں یا تو جنبہ داری سے کام لیا گیا ہے اور یا بھیڑ چال اختیار کی گئی ہے۔ہو سکتا ہے کہ تمہارے پاس اس کی کوئی دلیل ہو لیکن میرے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں۔طاہر احمد شاگر د ہے اور مولوی غلام باری صاحب سیف استاد ہیں۔استاد کو بہت کم ووٹ ملے ہیں اور شاگرد کو زیادہ۔اور یہ استاد کی کنڈ منیشن (CONDEMNATION)ہے۔